تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 164
تاریخ احمدیت۔جلد 28 164 سال 1972ء پھر بخاری میں ہی گھوڑا پالنے کی فضیلت یوں بیان کی گئی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھے اور اس کی طرف سے فتوحات کے وعدوں پر یقین رکھتے ہوئے کوئی گھوڑا پال کر تیار کرتا ہے تو اس گھوڑے کا چارہ جس سے وہ سیر ہوتا ہے اور وہ پانی جس سے وہ پیاس بجھاتا ہے حتی کہ اس گھوڑے کا بول و براز بھی اس شخص کے میزان میں بروز قیامت رکھا جائے گا“۔اگر آپ لوگ بھی گھوڑے رکھتے ہوئے یہ نیت کر لیا کریں کہ جب ضرورت ہوگی یہ گھوڑے جماعتی کام آئیں گے تو میں سمجھتا ہوں کہ قیامت کے دن آپ لوگوں پر بھی یہی حدیث صادق آئے گی۔گھوڑا تو رکھنا ہی ہے نیت یہ ہونی چاہیے۔ثواب بھی اور فائدہ بھی دونوں آپ کے حصہ میں آئیں گے۔لوگوں میں گھڑ دوڑ ، تیراندازی کھیل کود کا ہی ایک شغل سمجھا جاتا ہے لیکن مسلمانوں کے لئے گھڑ دوڑ اور تیر اندازی کو ایسا کھیل بنادیا ہے جس میں فرشتے بھی شریک ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مَا تَشْهَدُ المَلائِكَةُ مِن لَهِوِ كُم إِلَّا الرِّهَانِ وَالنَضَال (شرح جامع الصغير الجزء ۲ باب حرف المیم ) یعنی تمہارے کھیل کود کے کاموں میں سے سوائے گھڑ دوڑ اور تیراندازی کے مقابلوں کے اور کسی کام میں فرشتے شریک نہیں ہوتے۔جس کام میں فرشتے شریک ہوں وہ کتنا مبارک کام ہے پس ہمیں چاہیے کہ ہم ان مشاغل کو اپنائیں۔اس کے علاوہ جسم کی طاقت کو محفوظ رکھنے کے لئے یہ نہایت اعلیٰ قسم کی ورزش بھی ہے۔طاقت بحال رہے گی تو دینی کاموں میں زیادہ دلچسپی پیدا ہوگی۔نیک کام کرنے کی اللہ تعالیٰ توفیق دے گا۔167 انتظامی پروگرام و خطاب حضور انور سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الثالث مورخہ ۱۰ دسمبر کو گھڑ دوڑ ٹورنامنٹ کی اختتامی تقریب میں تشریف لے گئے اور امتیازی کامیابی حاصل کرنے والوں کو اپنے دست مبارک سے انعامات تقسیم کئے اور پھر ارشاد فرمایا:۔اس سال گھڑ دوڑ کے مقابلہ میں چالیس گھوڑوں نے حصہ لیا ہے۔آئندہ سال تو نہیں لیکن آئندہ چار پانچ سال کے اندر چالیس سو گھوڑوں کو اس مقابلہ میں حصہ لینا چاہیے۔اس لئے دوست اس طرف توجہ کریں۔گھوڑے خریدیں، گھوڑوں کی نسلیں پالیں، نکالیں اور ڈھونڈیں۔میں نے ایک چھوٹی سی بچھیری بچوں کے لئے لی تھی جسے آپ نے کیٹی کے نام سے دیکھا ہے۔یہ ماشاء اللہ بڑی اچھی نکل رہی ہے۔نون۔