تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 159 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 159

تاریخ احمدیت۔جلد 28 159 سال 1972ء ہمارا فرض ہے کہ ہم ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ اس قرآنی دعا سے کریں جو اس غرض سے خدا نے ہمیں سکھائی ہے جو یہ ہے رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِيْنَ (آل عمران: ۱۴۸) اے ہمارے رب ہمارے قصور ( یعنی کو تا ہیاں ) اور ہمارے اعمال میں ہماری زیادتیاں معاف کر اور کا فرلوگوں کے خلاف ہماری مدد کر۔یہ یادگار خطبہ جمعہ ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے جس کے بعض اقتباسات سپر دقر طاس کئے جاتے ہیں۔حضور انور نے فرمایا:۔دوستوں کو علم ہو چکا ہوگا کہ ایبٹ آباد میں جماعت کی جو کوٹھیاں تھیں ( کچھ بن چکی تھیں اور کچھ بن رہی تھیں ) جن میں ایک دو میری ذاتی بھی تھیں۔پچھلے مہینے ان کو جلانے کی کوشش کی گئی جس کے نتیجہ میں ( ہمارا اندازہ ہے ) بیس پچیس ہزار روپے کا نقصان ہوا ہے۔کئی دوستوں نے مجھے بڑے غصے کے خط لکھے ہیں۔میں نے ان کو یہی سمجھایا ہے کہ دیکھو! مالی لحاظ سے بیس پچیس ہزار روپے کا نقصان پہنچا کر اگر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کو نا کام اور ہلاک کر دیں گے تو یہ ان کی بھول ہے۔اب تو خدا کے فضل سے وہ وقت آ گیا ہے کہ جماعت کے اندر ایسے افراد بھی پائے جاتے ہیں کہ اگر کسی ایک فرد کی ایسی پچاس کو ٹھیاں جلا دی جائیں تو اس کو محسوس بھی نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کے خزانے تو بھرے ہوئے ہیں اس نے جماعت احمدیہ کو مال بھی عطا فرمایا ہے۔پس ایک ایسا آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے مالی قربانیوں کی توفیق عطا کی ہو اس کے پچاسویں حصے کو نقصان پہنچا کر اگر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جماعت احمد یہ کونا کام کر دیں گے تو ان کی حالت واقعی قابل رحم ہے۔غرض دوستوں کو یہ امر یا درکھنا چاہیے کہ لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ کی رو سے یہ چیزیں ہمارے ساتھ بھی لگی ہوئی ہیں۔الہی سلسلوں کے ساتھ مخالفین کا یہ سلوک کوئی نئی بات نہیں۔تاہم ایسے موقعہ پر خوف اس بات کا نہیں ہوا کرتا کہ مخالفین کی حرکتیں جماعت کو نا کام کر دیں گی۔بلکہ یہ خوف ہوتا ہے کہ کہیں جماعت کا رد عمل اللہ کی رضا اور اس کی منشاء کے خلاف ظاہر نہ ہو۔میں نے شروع میں جو دو آیات تلاوت کی ہیں ان میں سے پہلی آیت میں تین قسم کے خوف ہیں اور دوسری