تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 6 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 6

تاریخ احمدیت۔جلد 28 6 سال 1972ء جماعت کے بہت سے احباب نے حضور کا استقبال کیا۔حضور نے تمام دوستوں سے مصافحہ فرمایا اور پھر تھوڑی دیر تک ان سے گفتگو بھی فرماتے رہے۔حضور نے فرمایا کہ پاکستان اس وقت جس المیہ سے دو چار ہے اگر انسان غور کرے تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کے بعد سے اب تک کسی قوم سے اتنے بڑے پیمانے پر غداری نہیں ہوئی۔اب جوں جوں وقت گذر رہا ہے اس سانحہ کے درد اور اس المیہ کی ٹیس میں شدت پیدا ہو رہی ہے اور ایسا کیوں نہ ہو جبکہ قوم اپنے ملک کی سالمیت کی خاطر ہر قربانی دینے کے لئے تیار تھی۔فرمایا:۔یہ وقت بیان بازی کا نہیں بلکہ اس وقت ہم سب کا فرض ہے کہ ہم اپنی صفوں کو درست کریں، متحد و منظم ہو جائیں اور تعمیر نو کے کاموں میں حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔انفرادی و اجتماعی ملاقاتیں ۱۸ جنوری کو حضور قریبا دن بھر احباب سے انفرادی اور اجتماعی طور پر ملاقاتیں فرماتے رہے ان میں بعض غیر از جماعت دوست بھی شامل تھے۔اس روز حضور ماریشس کے ہائی کمشنر کے ہاں دو پہر کے کھانے پر مدعو تھے جہاں کئی ملکی اور غیر ملکی مسلم زعماء اور سفراء بھی موجود تھے جو حضور کے ساتھ اسلامی ممالک کے استحکام اور خوشحالی کے بارے میں تبادلہ خیال فرماتے رہے۔اس موقع پر حضور نے بعض مسلم زعماء کو قرآن کریم مع انگریزی ترجمہ کے چند نسخے عطا فرمائے۔جنہیں سب نے بڑی محبت اور شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔احباب جماعت نے کوٹھی پر مغرب اور عشاء کی نمازیں حضور کی اقتداء میں ادا کیں۔اس کے بعد حضور قریباً نصف گھنٹے تک احباب میں رونق افروز رہے۔حضور نے ملک میں رائج ہونے والی بعض اصلاحات کا خیر مقدم کرتے ہوئے فرمایا کہ اصلاحات ٹھوس منصوبہ بندی کی متقاضی ہیں اور منصو به بندی در اصل اعداد و شمار کے بغیر ہو نہیں سکتی۔فرمایا۔وہی اصلاحات انجام کار مفید اور نتیجہ خیز ثابت ہوسکتی ہیں جن کی بنیاد صحیح اعدادوشمار پر ہوتی ہے۔ہمارے ملک میں فنی اور سائنسی ذہنوں کی کمی نہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے اس قیمتی سرمایہ کا ضیاع نہ ہو۔البتہ ان کی تعلیم و تربیت میں اس امر پر خصوصی توجہ دینی چاہیے کہ وہ فارغ التحصیل ہو کر ملک وملت کی خدمت کو اولیت دیں گے خواہ انہیں کسی دور دراز دیہات میں ہی کیوں نہ لگایا جائے۔اس ضمن میں آپ نے ایک امریکن