تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 138
تاریخ احمدیت۔جلد 28 138 سال 1972ء حضور انور نے دوران خطاب احمدی مستورات کو خاص طور پر پردہ کرنے کی طرف توجہ دلائی نیز حضور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ پیار کرنے کی ضرورت ہے۔آپ اس کے پیار کے جلوے دیکھیں گی تو اپنے نفسوں میں یہ محسوس کریں گی کہ یہ کوئی مہنگا سودا نہیں۔حضور انور نے دوران خطاب احمدی مستورات کو نماز تہجد کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ دلائی۔134 اشاعت قرآن کریم کے لئے عطیہ اس موقع پر حضور کی خدمت اقدس میں صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے لجنہ اماءاللہ کی طرف سے اشاعت قرآن کے لئے دولاکھ روپے بطور عطیہ پیش کئے۔ان میں سے ایک لاکھ روپے لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی طرف سے اور ایک لاکھ روپے لجنہ اماءاللہ انگلستان کی طرف سے پیش کئے گئے۔اجتماع کا تیسرا اور آخری دن پنجاه سالہ تقریب اور اجتماع کے تیسرے اور آخری دن (۱۹ نومبر ) کا پروگرام ایک طویل اجلاس پر مشتمل تھا جو صبح ساڑھے آٹھ بجے سے شروع ہو کر ایک بجے بعد دو پہر تک جاری رہا۔اجلاس کا آغاز تلاوت قرآنِ مجید اور درس حدیث سے ہوا جو مولانا عبد المالک خان صاحب ناظر اصلاح و ارشاد نے دیا۔اس اجلاس میں اہم تربیتی اور تنظیمی موضوعات پر احمدی خواتین کی متعدد اردو اور انگریزی تقاریر کے علاوہ سوا دس بجے حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ حرم سید نا حضرت خلیفۃ اسیح الثالث نے بھی اجتماع میں شریک خواتین سے خطاب فرمایا۔نیز اپنے دست مبارک سے انعامات بھی تقسیم فرمائے۔ساڑھے بارہ بجے حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے اختتامی تقریر فرمائی جس کے بعد آپ نے اجتماعی دعا کرائی۔اس طرح لجنہ اماءاللہ کی پنجاہ سالہ تقریب اور پندرھواں سالانہ اجتماع اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعا پر نہایت کامیابی اور خیر و خوبی سے اختتام پذیر ہوا۔یہ اجتماع اللہ تعالیٰ کے غیر معمولی فضلوں اور رحمتوں کا آئینہ دار ثابت ہوا اور اس میں شریک خواتین کے لئے غیر معمولی رنگ میں ازدیاد ایمان کا باعث بنا۔فالحمد للہ 135 نمائندہ خواتین کی تقاریر اس بابرکت تقریب پر ماریشس، انڈونیشیا، کینیا، امریکہ، انگلستان اور ڈنمارک کی نمائندہ خواتین نے بھی تقاریر فرمائیں جو قیمتی معلومات سے لبریز تھیں۔مثلاً :