تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 129 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 129

تاریخ احمدیت۔جلد 28 129 سال 1972ء نانبائی ہوں گے اس لئے ان کو تیار کرنا چاہئے کہ وہ یہاں جلسہ سننے آئیں اور ساتھ یہ بھی نیت کریں کہ اگر روٹی پکانے کی ضرورت پڑی تو ہم سب اس میں شامل ہوں گے۔121 پھر سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے ۱۷ نومبر ۱۹۷۲ء کے خطبہ جمعہ میں بھی احباب جماعت کو بالعموم اور اہل ربوہ کو بالخصوص ان کی اہم ذمہ داریوں کی طرف تفصیل سے توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ جلسہ سالانہ کے جملہ انتظامات اہل ربوہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ پوری تعداد میں رضا کارانہ طور پرا اپنی خدمات منتظمین جلسہ کو پیش کریں۔نیز حضور انور نے سکولوں اور کالجوں کے بچوں کے بارہ میں فرمایا کہ سکولوں اور کالجوں کے بچے اور بچیاں انشاء اللہ اسی طرح رضا کارانہ طور پر کام کریں گی جس طرح وہ سالہا سال سے کام کرتے چلے آئے ہیں اور عوام کی یہ عمارتیں بھی اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت میں پیش ہوں گی اور اپنی مہمان نوازی اور خدمت پیش کریں گی جس طرح پہلے کرتی چلی آئی ہیں۔حضور انور نے صفائی کے حوالے سے فرمایا: وو جلسہ سالانہ کے ایام میں ربوہ کی صفائی کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہیے۔جلسہ کے دنوں میں بھی صفائی ہونی چاہیے اور اس سے پہلے بھی صفائی ہونی چاہیے۔صفائی کی طرف اہل ربوہ کو بالعموم اور مجلس خدام الاحمدیہ اور مجلس صحت کو بالخصوص توجہ 166 دینی چاہیے۔125 حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی اجتماعات پر قیمتی ہدایات ۱۷ نومبر ۱۹۷۲ ء کو مرکز میں انصار اللہ اور لجنات کے اجتماعات شروع ہو رہے تھے اس لئے اس روز حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے خطبہ جمعہ میں ہدایت فرمائی کہ :۔پاکستان میں اس وقت بیماری بھی بہت پھیلی ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ فضل فرمائے۔دوستوں کو بہت احتیاط کرنی چاہیے۔ان دنوں عام طور پر تین بیماریاں اکٹھی حملہ کرتی ہیں۔ملیریا، انفلوئنزا ، گلے کی تکلیف جسے انگریزی میں Throat Infection ( تھروٹ انفیکشن) کہتے ہیں۔تو یہ اللہ کی تقدیر ہے اور ہم اس سے گھبراتے نہیں۔لیکن باوجود اس کے کہ بہت دوست بیمار رہے ہیں پھر بھی وہ اس