تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 128
تاریخ احمدیت۔جلد 28 128 سال 1972ء ربوہ میں عید الفطر کی مبارک تقریب ۸ نومبر ۱۹۷۲ء کو پاکستان کے دوسرے مقامات کی طرح ربوہ میں بھی عید الفطر کی تقریب نہایت سادہ اور پروقار طریق اور رب کریم کے حضور عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ منائی گئی۔یہ عید پہلی مرتبہ مسجد اقصیٰ کی وسیع و عریض سادہ مگر پرشکوہ عمارت میں ادا کی گئی جس میں اہل ربوہ نے پورے جوش و خروش کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔حضور انور نے نماز عید پڑھائی اور ایک بصیرت افروز خطبہ ارشاد فرمایا جس میں حضور انور نے فرمایا کہ دین کی راہ میں خدا تعالیٰ کی خاطر صبر و استقامت کے ساتھ مسلسل قربانیوں کے نتیجہ میں ہر عید ہمارے لئے خدا کی برکات کے نزول کا موجب بن جاتی ہے اور دراصل یہی وہ برکات ہیں جو ہر مومن کے لئے حقیقی عید اور خوشی و مسرت کا موجب ہوتی ہے۔حضور انور نے فرمایا یہ سب عیدیں ہماری ضیافتیں ہیں جو ہمارے رب کی طرف سے مختلف رنگوں میں آتی ہیں اور ہماری روحانی سیری کا موجب بنتی ہیں۔ہمارا فرض ہے کہ ہم ان عیدوں کی قدر کریں اور استقامت کے ساتھ قربانیاں کرتے ہوئے اپنے خدا کی حمد میں مصروف رہیں۔123 حضرت خلیفہ المسیح الثالث کے ارشادات بابت جلسہ سالانہ حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے اپنے خطبہ فرمودہ ۱۰ نومبر ۱۹۷۲ء کو جلسہ سالانہ کے سلسلہ میں اہل ربوہ اور دیگر احباب جماعت کو بعض ارشادات فرمائے۔حضور انور نے فرمایا کہ ہمارا جلسہ سالانہ قریب ہے اس لئے اپنی ذمہ داریوں کی طرف خصوصی توجہ دیں نیز شب وروز دعائیں بھی کریں۔حضور نے فرمایا کہ جلسہ سالانہ کے موقع پر کالج سکولوں کے بچے اور بچیاں رضا کارانہ طور پر کام کریں اور جلسہ سالانہ کے مہمانوں کے لئے اہالیان ربوہ اپنے مکانات پیش کریں اور جلسہ سالانہ کے ایام میں ربوہ کی عام صفائی کا خیال رکھا جائے نیز حضور نے فرمایا کہ ہمارے جلسہ سالانہ میں نانبائیوں کی کمی رخنہ انداز نہیں ہونی چاہئے۔ہمارے مردوزن ہر دو کو پیٹڑے اور روٹیاں بنانے کے لئے جلسہ سالانہ کے ایام میں تیار رکھا جائے۔حضورانور نے فرمایا کہ چونکہ عام طور پر مرد نانبائی نظر آتا ہے۔اس واسطے دنیا میں احمدی مرد بھی