تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 120
تاریخ احمدیت۔جلد 28 120 سال 1972ء حاصل کی تھی۔اکیس سال کا عرصہ میں نے وکالت میں صرف کیا۔قریب سات سال کا عرصہ میں حکومت ہند میں وزیر رہا اور اسی قدر عرصہ پاکستان کے وزیر خارجہ کے فرائض ادا کئے۔چھ سال ہندوستان کی سب سے اعلیٰ عدالت کا رکن رہا۔پندرہ سال سے زائد عرصہ عالمی عدالت کی رکنیت میں گذارا۔تین سال امم متحدہ میں پاکستان کی سفارت سرانجام دی۔محض اللہ تعالیٰ کی ذرہ نوازی سے یہ مواقع میسر آئے اور اسی کی تائید اور نصرت سے ان کے فرائض کی ادائیگی کی تو فیق ملی۔عالمی عدالت کی رکنیت سے علیحدہ ہونے پر جس قدر پنشن کا میں حقدار ہو چکا تھا وہ میری ضروریات سے بہت بڑھ کر تھی۔سو بفضل اللہ اس پہلو سے مجھے کوئی پریشانی نہیں تھی۔لیکن میری تمام عمر دنیا کے دھندوں میں گذری تھی اور میں اپنے تئیں دین کی کسی پہلو سے خدمت کے قابل نہیں پاتا تھا۔چونکہ خواب واضح تھا میں نے یہ اقدام تو فوراً کیا کہ حکومت پاکستان کی وزارت خارجہ کو لکھ دیا کہ وہ میرا نام عالمی عدالت کی رکنیت کی امیدواری سے واپس لے لیں اور یہ تہیہ کر لیا کہ جس پہلو سے مجھے خدمت دین کا موقع میسر آئے میں اللہ تعالیٰ کے فضل و رحم اور اس کی تائید اور نصرت پر انحصار کرتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کروں گا۔وَ اللهُ الْمُسْتَعَانُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدَيْر - 115 جماعت احمدیہ کو محاسبہ نفس کرنے کی پرزور تحریک سید نا حضرت خلیفتہ لمسح الثالث نے ۲۹ ستمبر ۱۹۷۲ء کوتحریک فرمائی کہ سب احمدی خصوصی دعاؤں کے ساتھ ساتھ غلبہ اسلام کے حصول کی خاطر حبل اللہ کو مضبوطی سے پکڑ لیں اور اس ضمن میں ہر فرد اپنے نفس کا محاسبہ کرے۔یہ اہم تحریک حضور ہی کے الفاظ میں درج کی جاتی ہے۔میں جماعت احمدیہ کے ہر چھوٹے اور بڑے، ہر جوان اور بوڑھے اور ہر مرد اور عورت سے کہتا ہوں کہ تم بھی اپنے نفس کا محاسبہ کرو۔تا ایسا نہ ہو کہ آج ملک میں جو فتنہ فساد ہمیں نظر آ رہا ہے تباہی اور انتشار کی بھڑکتی ہوئی جس آگ کو ہم دیکھ رہے ہیں ، اس کے شعلوں کی لپیٹ میں ہم میں سے بھی کوئی آجائے۔کیونکہ بسا اوقات جو ظالم نہیں ہوتا وہ بھی اس کی لپیٹ میں آجاتا ہے اس کا بھی قرآن کریم نے ذکر فرمایا ہے وہ ایک اور مضمون کے ضمن میں ہے اس کی تفصیل میں میں اس وقت نہیں جاسکتا۔