تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 119
تاریخ احمدیت۔جلد 28 119 سال 1972ء اطلاع بھی نہ دی گئی۔اگر چہ اسی قسم کے مسئلہ میں دیگر کئی تعلیمی ادارہ جات جیسا کہ F۔C کالج لاہور کو ان کے مالکان کے سپرد کر دیا گیا لیکن جماعت احمدیہ کے معاملہ میں حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔114 حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کا خدمت دین کے لئے وقف کرنا حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب اپنی سوانح عمری ( تحدیث نعمت ) میں تحریر فرماتے ہیں:۔۱۹۷۲ء میں اراکین عدالت کے انتخابات کے سلسلہ میں میرا نام بھی دوبارہ انتخاب کے لئے بھیجا گیا تھا لیکن ایک انتہائی مبشر رو یا میں مجھے تقسیم ہوئی کہ مجھے اپنے تئیں خدمت دین کے لئے وقف کرنا چاہیے چنانچہ میں نے فور وزارت امور خارجہ پاکستان کو چٹھی لکھ دی کہ میرا نام واپس لے لیا جائے۔۵ فروری کی رات کو نصف شب سے قبل میں خاموشی سے بیگ سے بحری راستہ سے لندن روانہ ہو گیا جہاں حضرت خلیفہ اُسیح کی ہدایت کے ماتحت میں نے اپنی رہائش کا انتظام کر لیا تھا۔“ اس کے نیچے حاشیہ میں ناشرین کتاب کی طرف سے حضرت چوہدری صاحب کی ایک غیر مطبوعہ تحریر دی گئی ہے جس میں اس اجمال کی تفصیل بیان کرتے ہوئے حضرت چوہدری صاحب فرماتے ہیں کہ عالمی عدالت پر میری دوسری مرتبہ رکنیت کی میعاد ۶ فروری ۱۹۶۴ء کو شروع ہوئی تھی اور ۵ فروری ۱۹۷۱ء کو ختم ہونے والی تھی۔اکتوبر ۱۹۷۲ ء میں جو انتخابات ہونے والے تھے ان میں میرے مکرر انتخاب کے لئے حکومت پاکستان کی طرف سے میرا نام بھیج دیا گیا تھا۔ستمبر ۱۹۷۲ء میں مجھے خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی زیارت نصیب ہوئی۔خواب میں میں نے دیکھا کہ میں نے اپنی چھڑی حضور اقدس علیہ السلام کی خدمت عالیہ میں پیش کی اور حضور علیہ السلام نے از راہ شفقت اسے تبسم فرما کر قبول فرمایا۔میں اس خواب کی تعبیر کا مفہوم یہ سمجھا کہ مجھے اب کلی طور پر اپنے تئیں خدمت دین کے لئے وقف کر دینا چاہئیے۔میری عمراتی سال کو پہنچ رہی تھی۔ثلث صدی سے زائد عرصہ سے میں ذیا بیطس کا مریض تھا۔ذہنی اور جسمانی قوی کا انحطاط بڑھ رہا تھا۔میرا دینی علم نہایت محدود تھا۔اکیس سال کی عمر میں میں نے بیرسٹری کی سند