تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 111
تاریخ احمدیت۔جلد 28 111 سال 1972ء سکتے۔اس لئے ہماری خواہش اور کوشش ہے کہ ہماری نسلیں قرآن کریم کو حرز جان بنا لیں اور اس کو مہجور نہ چھوڑیں اور اس کا ایک طریق یہ اختیار کیا گیا ہے کہ ہر سال جماعت کے بچوں کے ایک گروہ کو مرکز میں اکٹھا کیا جاتا ہے اور اسے قرآن کریم کے معانی، اس کی خوبیوں، اس کے انوار اور اس کے حقائق و معارف سے واقف کرایا جاتا ہے تا ہماری نسل کا ہر فرد اس کتاب کی عظمت کا قائل ہو، اس کی غلو شان سے واقف ہو، اس کی خوبیوں سے آگاہ ہو، اس کے نور کا اسے علم ہو، اس کی روح اور اخلاق پر اس کا اثر ہو، اس کے دل میں اس کے لئے محبت کا ہر وقت ایک سمندر موجزن ہو اور کسی وقت بھی اس کے نفس میں شیطان کوئی ایسا وسوسہ پیدا نہ کرے جو اسے قرآن کریم سے دور لے جانے والا ہو۔“ حضور نے تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا:۔قرآن کریم نے اپنی کئی صفات کا ذکر کیا ہے ان صفات میں سے ایک صفت هدئ للناس ہے یعنی قرآن کریم خدا تعالیٰ کے قرب کی راہوں کی نشاندہی کرتا ہے اور پھر انسانی استعداد کے مطابق منزل به منزل بہتر سے بہتر ہدایت عطا کرتا ہے اور عطا کرتا چلا جاتا ہے۔۔۔۔دوسری صفت قرآن کریم نے اپنی یہ بیان کی ہے کہ بينات من الهدی کہ جو ہدایت میں تمہیں دیتا ہوں وہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے اس لئے ہر استعداد کا انسان اس کو اور اس کی تفاصیل کو قبول کرے گا۔پھر قرآن کریم نے اپنے اس دعوی کے عقلی نقلی تاریخی اور اعجازی دلائل بیان کئے ہیں۔اس نے اپنے اس دعوی کی صداقت کا ایک نشان قبولیت دعا بھی پیش کیا ہے جو ایک زبر دست دلیل ہے اس بات پر کہ خدا اور انسان میں پختہ اور زندہ تعلق قائم ہے۔پہلی کتابوں نے بعض احکام شریعت ایسے دیئے تھے جن کے دلائل نہیں دیئے گئے تھے اور اگر دلائل دیئے بھی تھے تو وہ ابتدائی نوعیت کے تھے لیکن قرآن کریم نے بوجہ جامع ہدایت ہونے کے ان شرائع کا جو حصہ لیا ہے اس کے دلائل بھی دیئے ہیں پھر تیسری صفت قرآن کریم نے اپنی یہ بیان کی ہے کہ میں الفرقان ہوں یعنی میں ان تمام اختلافات کو دور کرتا ہوں جو مذاہب اور نیم مذاہب میں پائے