تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 110
تاریخ احمدیت۔جلد 28 110 سال 1972ء انتظام تھا۔ہر روز شام کو طالبات کی کلاس زیر نگرانی حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ ہوتی رہی۔۱۳ اگست کو طالبات کا امتحان لجنہ ہال اور نصرت گرلز ہائی سکول کے ہال میں منعقد ہوا جس میں ۶۴ معیار اول اور ۳۳۵ معیار دوم کی لڑکیاں شامل ہوئیں۔اسی شام اختتامی تقریب دفتر لجنہ اماءاللہ کے لان میں حضرت صاحبزادی سیدہ امتہ الحفیظ صاحبہ کی زیر صدارت ہوئی۔مورخہ ۱۴ اگست کی صبح طالبات کے کھیلوں کے مقابلہ جات لجنہ کے میدان میں منعقد ہوئے۔ربوہ اور بیرون از ربوہ طالبات کا نیٹ بال کا مقابلہ بھی ہوا جس میں ربوہ کی ٹیم نے کامیابی حاصل کی۔اسی طرح تقریری مقابلہ جات لجنہ کے ہال میں زیر صدارت حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ منعقد ہوئے۔106 فضل عمر تعلیم القرآن کلاس اس سال چھٹی مرکزی فضل عمر درس القرآن کلاس ۲۲ جولائی تا ۱۳ راگست ۱۹۷۲ء مسجد مبارک ربوہ میں انعقاد پذیر ہوئی جو ہر لحاظ سے نہایت کامیاب رہی۔کلاس میں پاکستان کی ۱۷۲ جماعتوں کے ۳۹۱ طلباء اور ۴۰۹ طالبات نے شمولیت کی۔اس کلاس کی متعدد خصوصیات تھیں مثلاً اس سال پورے قرآن مجید کے ترجمہ کا پہلا دور ختم ہوا۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث کے ارشاد کے مطابق ایک ہفتہ تک کلاس مقامی طور پر امراء جماعت اور مربیان کرام کی زیر نگرانی منعقد ہوئی جس کے بعد طلباء نے تین ہفتہ تک ربوہ میں آکر مرکزی انتظام کے ماتحت ترجمہ قرآن اور دیگر اہم دینی علوم حاصل کئے۔اس سال حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے قیام و طعام اور نظم وضبط کے لئے با قاعدہ ایک سب کمیٹی نیز تدریسی انتظامات کے لئے ایک مستقل سب کمیٹی مقرر فرما دی جس سے کلاس کے انتظامات پہلے سے بہتر رنگ میں انجام پاگئے۔107 سید نا حضرت خلیفہ امسیح الثالث ان ایام میں ایبٹ آباد میں مقیم تھے اور گرمی بلا کی پڑ رہی تھی مگر طلباء کو انوار قرآنی سے فیضیاب کرنے کے لئے حضور خاص طور پر ایبٹ آباد سے ربوہ تشریف لائے اور ۲۲ جولائی ۱۹۷۲ء کو ایک بصیرت افروز خطاب میں فرمایا کہ قرآن کریم کے بغیر قرآن کریم کی برکات کو چھوڑ کر اور قرآنی انوار کی طرف سے پیٹھ پھیر کر ہم خدا تعالیٰ کی نگاہ میں کوئی رفعت اور کامیابی حاصل نہیں کر