تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 2 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 2

تاریخ احمدیت۔جلد 28 2 سال 1972ء کی شکل میں ہمارے سامنے رکھی ہے اور وقف جدید کی روح یہ ہے کہ وقف کی روح کے ساتھ بنی نوع انسان کی خدمت میں وسعت پیدا کی جائے چنانچہ حضرت الصلح الموعود کا دراصل یہی منشا تھا کیونکہ اس سے پہلے جماعتی نظام تو موجود تھا۔تحریک جدید بھی قائم تھی اور وہ اپنے کاموں میں لگی ہوئی تھی۔جماعت کی ہر ایک تنظیم کا اپنا انتظام تھا اور وہ اپنے کام میں لگی ہوئی تھی لیکن میں نے جہاں تک غور کیا اور میں سمجھتا ہوں یہ میرا اپنا تجزیہ اور استدلال ہے کہ حضرت مصلح موعود کے سامنے ایک طرف تو یہ بات تھی کہ تحریک جدید کا اپنا ایک طریق متعین ہو گیا ہے اور تحریک جدید کے کام کا تقاضا یہ ہے کہ بہت بڑے عالم ہوں (خدا کرے کہ ہمیں ایسے عالم میں اور ہمیشہ ملتے رہیں) کیونکہ انہیں باہر بھی جانا پڑتا ہے۔جہاں انہیں بڑے بڑے پادریوں سے جو اپنے آپ کو دنیا کا معلم سمجھتے ہیں خواہ وہ معلم ہوں یا نہ ہوں بہر حال وہ اپنے آپ کو دنیا کا معلم سمجھتے ہیں ان کے ساتھ باتیں کرنی پڑتی ہیں اس غرض کے لئے جامعہ احمد یہ قائم ہے۔جامعہ احمدیہ کو بھی اپنی ترقی کے لئے سوچنا چاہیے اور بہتری کے لئے سامان کرنا چاہیے۔جامعہ احمدیہ سے شاہد کرنے کے بعد پھر ہم ان کو ریفریشر کورسز کرواتے ہیں۔پھر بعض کو زبانیں سکھاتے ہیں اس کے اوپر بڑا خرچ آتا ہے ہمیں اس وقت جتنی ضرورت ہے اس کے مطابق ہمارے پاس وسائل نہیں ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں حالانکہ کام بڑھ گیا ہے۔مبلغین کے علاوہ ہمارے پاس پاکستان میں جو شاہد اور معلم ہیں جو پرانے اصلاح کرنے والے ہیں وہ بھی اسی طرح بڑے پایہ کے ہونے چاہئیں۔یہ سارے اس پایہ کے نہیں جس پایہ کے ان کو ہونا چاہیے اس لئے انہیں یہ کوشش کرنی چاہیے کہ اعلیٰ پایہ کے مربیان و معلمین بن جائیں اور وہ بن سکتے ہیں۔اگر چہ جامعہ احمدیہ کی پڑھائی کے نتیجہ میں تو نہیں بنتے لیکن وہ اپنی دعاؤں کے نتیجہ میں پایہ کے مبلغ ضرور بن سکتے ہیں کیونکہ دعاؤں کے نتیجہ میں اگر ہر چیز حسب منشاء بن سکتی ہے تو اس لحاظ سے ہر شخص پایہ کا مبلغ بھی بن سکتا ہے۔جو شخص خدا تعالیٰ سے پیار کا تعلق پیدا کرے گا اور دعائیں کرے گا تو خدا تعالیٰ خود اسے سکھائے گا اور اس کا معلم بنے گا۔۔۔۔پس