تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 108 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 108

تاریخ احمدیت۔جلد 28 108 سال 1972ء خلافت ابھی بہت تھوڑا ہے۔پانچ چھ سال کے اس تھوڑے سے عرصہ میں قرآن کریم کی ایک لاکھ کا پیاں چھپ چکی ہیں۔میرا خیال ہے آپ میں سے کسی دوست کے ذہن میں یہ بات نہیں آئی ہوگی کہ کتنا بڑا انقلاب آگیا ہے۔۔۔امت محمدیہ میں در اصل قرآن کریم کی اشاعت دو رنگ میں کی گئی ہے۔ایک اس کو تجارت کا مال بنا کر منڈی میں پھینکا گیا اور اس سے مادی فائدہ اٹھایا گیا لیکن خدا تعالیٰ نے مجھے تاجر نہیں بنایا مجھے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نائب بنایا ہے۔اس واسطے میں نے تجارت نہیں کرنی۔پس ہم نے اس کی تجارت اللہ تعالیٰ سے کرنی ہے ہم نے پانچ دس فیصدی نفع نہیں لینا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو میرے ساتھ تجارت کرے گا اسے دس گناہ زیادہ دوں گا اور اگر چاہوں تو اس سے بھی زیادہ دوں گا۔اس لئے ہم نے یہ دعا کرنی ہے کہ اے ہمارے خدا ہمارے لئے یہ پسند فرما اور توفیق دے کہ ہم اس کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کریں اور زیادہ سے زیادہ ثواب اور اجر کے مستحق ٹھہریں اس وقت یہ تین نسخے قرآن کریم کے ایک سادہ، دو مترجم اشاعت کے لئے موجود ہیں۔‘101 اسی خطبہ میں حضور نے اس عظیم الشان منصوبہ کی تکمیل کے سلسلہ میں آسان سکیم پیش فرمائی کہ ہر تحصیل اشاعت قرآن کے لئے دو ہزار روپیہ جمع کرے اور امرائے ضلع اس سرمایہ سے حمائل سائز میں سادہ اور اردو ترجمہ والا قرآن خریدیں اور اصل لاگت (یعنی چھ روپے فی کاپی) پر فروخت کریں۔( یہی سکیم حضور نے قبل ازیں مشاورت ۱۹۷۲ ء کے موقع پر رکھی اور ارشاد فرمایا تھا کہ امراء اور پریذیڈنٹ صاحبان اس بات کا انتظام کریں کہ ہر تحصیل میں دو ہزار روپیہ جمع کیا جائے اور یہ رقم سرمایہ کے طور پر ہو اور اس سے قرآن مجید کی اشاعت کا کام تحصیل وار ہو۔)102 مخلصین جماعت کی طرف سے والہانہ لبیک حضرت خلیفہ امسح الثالث کی تجویز فرمودہ سکیم پر پاکستان اور بیرون ممالک کے جن امراء حضرات نے فوری طور پر لبیک کہنے کی سعادت حاصل کی ان کے نام یہ ہیں۔(۱) چوہدری اسد اللہ خاں صاحب امیر ضلع لاہور