تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 77
تاریخ احمدیت۔جلد 27 77 سال 1971ء انو کو پہلے روزی یہ ہدایت دینی پڑی کہ آئندہ سالیہ اجتماع کسی اور وسیع جگہ پر منعقد کیا جائے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کا افتتاحی خطاب حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے سولہویں سالانہ اجتماع کے افتتاحی خطاب میں فرمایا کہ اس وقت خدا کے فضل سے جماعت کی ترقی میں بہت تیزی آچکی ہے۔۴ سال قبل میں نے فضل عمر فاؤنڈیشن کی تحریک کی تھی جس کے نتیجہ میں اس جماعت نے علاوہ اور ذمہ داریوں کے ۳۳ لاکھ روپے اس تحریک میں پیش کئے۔پھر اس تیزی سے بھی زیادہ تیزی اس جماعت نے نصرت جہاں ریز روفنڈ کے لئے دکھائی جو گزشتہ تحریک سے کچھ ہی عرصے بعد کی گئی۔چنانچہ نصرت جہاں ریز روفنڈ کے تحت ۴۸لاکھ روپے جمع ہوئے۔حضور انور نے فرمایا کہ اس کے بعد افریقہ میں نصرت جہاں ریزرو فنڈ کے تحت جمع ہونے والے پیسہ سے عظیم ترقیات کا سلسلہ شروع ہوا۔حضور انور نے اس کے ابتدائی ثمرات کا ذکر بھی فرمایا۔حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کا اختتامی خطاب حضرت خلیفۃ اسیح الثالث نے انصار اللہ کے اجتماع سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے فضل نے باوجود نازک ملکی حالات کے انصار اللہ کو اس بڑے پیمانے پر جمع ہونے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔حضور نے فرمایا کہ قرآن کریم کی خدمت اور اسکی اشاعت انصار اللہ کا پہلا اور آخری فرض ہے آپ میں سے ہر ایک جب اپنے اپنے مقام پر واپس جائے تو وہ دعائیں کرتے ہوئے قرآن کریم کی اشاعت اور خدمت میں لگا رہے۔خود قرآن کریم کا ترجمہ سیکھے اور سکھائے اور پھر اس کے مطابق عمل کرنے کی کوشش بھی کرے۔آخر میں حضور نے لمبی اور پر سوز دعا فرمائی اور السلام علیکم کہہ کر تشریف لے گئے۔74 کیرالہ ہائیکورٹ بھارت کا فیصلہ ۱۹۶۹ء میں بھارت کی کالی کٹ کیرالہ سٹیٹ میں ایک شخص کے احمدی ہو جانے پر اس کی بیوی کے رشتہ داروں نے بغیر خلع و طلاق حاصل کرنے کے اس کی بیوی کا رشتہ جبراً کسی اور شخص سے کر دیا۔معاملہ ماتحت عدالت میں سے ہوتا ہوا بالآخر کیرالہ ہائی کورٹ میں پہنچا۔۱۹۷۱ء میں اس کیس کی