تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 62
تاریخ احمدیت۔جلد 27 62 سال 1971ء تلاوت و نظم کے بعد شیخ مبارک احمد صاحب سیکرٹری فضل عمر فاؤنڈیشن نے حضور کی خدمت میں سپاسنامہ پیش کیا جس میں فضل عمر فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام تعمیر ہونے والی اس شاندار عمارت کی تجویز سے لے کر اس کی تکمیل تک کے تمام مراحل پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ :۔"حضرت فضل عمر کی یہ بڑی خواہش تھی کہ مرکز میں ایک مکمل اور جامع لائبریری ہو اور اس کے لئے آپ نے اپنی زندگی میں متعدد مرتبہ توجہ دلائی بالخصوص ۱۹۵۲ء کی شوریٰ میں تو بڑے زور اور وضاحت سے لائبریری کی ضرورت، اہمیت اور افادیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔یہ اتنی اہم چیز ہے کہ ہمارے سارے کام اس سے وابستہ ہیں۔تبلیغ اسلام، مخالفوں کے اعتراضات کے جوابات، تربیت یہ سب کام لائبریری سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔اور پھر فرمایا:۔لائبریری ایک ایسی چیز ہے کہ کوئی تبلیغی جماعت اس کام کے بغیر کام نہیں کرسکتی۔ظاہر ہے کہ جامع لائبریری کا قیام جیسا کہ حضرت مصلح موعود کا منشاء مبارک تھا اور حضور کی ۱۹۵۲ء کی شوریٰ والی تقریر سے ظاہر ہے۔ایک بہت بڑا منصوبہ ہے جس کو فوری طور پر پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے سلسلہ کے جملہ اداروں کا باہمی تعاون از بس ضروری ہے۔فضل عمر فاؤنڈیشن نے اس عظیم منصوبہ میں سے ایک اہم حصہ یعنی مناسب و موزوں، پائیدار اور دیدہ زیب عمارت مہیا کرنے کا اپنے ذمہ لیا۔فضل عمر فاؤنڈیشن نے لائبریری کی عمارت کی تعمیر کے لئے ساڑھے تین لاکھ روپیہ کا بجٹ منظور کیا۔یہ بجٹ اگر چہ دو سال پہلے منظور کیا گیا تھا اس دوران تعمیری سامان اور متعلقہ اشیاء کے نرخوں میں اضافہ بھی ہوتا رہا۔بایں ہمہ یہ وسیع ، دیدہ زیب و پائیدار عمارت جس کا اس وقت آپ نظارہ فرما رہے ہیں مقررہ بجٹ کے اندر ہی تکمیل کو پہنچ گئی۔الحمد للہ کل خرج تعمیر ۱۵ / ۳,۶۴٫۳۳۲ روپے آیا۔تعمیر مکمل ہونے پر جو سامان بیچ رہا اس کو بذریعہ نیلام عام فروخت کیا گیا جس سے ۱۱/ ۱۴,۵۹۷ کی آمد ہوئی اس رقم کو منہا کرنے کے بعد اصل خرچ ۴ / ۳,۴۹,۷۳۵ روپے ہوا۔عمارت کی تعمیر ختم ہونے کے قریب تھی کہ فضل عمر فاؤنڈیشن نے یہ فیصلہ کیا کہ عمارت کے ساتھ ضروری فرنیچر بھی فاؤنڈیشن مہیا کر دے۔چنانچہ اس غرض کے لئے فوری مشورے کئے گئے۔فرنیچر