تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 57 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 57

تاریخ احمدیت۔جلد 27 57 سال 1971ء چاقو مار کر زخمی کر دیا گیا۔ملزم محمد اسلم قریشی جو کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں ملازم اور ائر کنڈیشنگ فورمین ہے گرفتار کر لیا گیا ہے۔مسٹر احمد پر یہ قاتلانہ حملہ آج صبح سوا آٹھ بجے ان کے دفتر واقع مرکزی سیکرٹریٹ اسلام آباد میں اس وقت کیا گیا جب وہ اپنے کمرے میں جانے کے لئے لفٹ میں سوار ہوئے۔مسٹر ایم ایم احمد کو پسلیوں کے نیچے پیٹ میں گہرا زخم آیا اس کے علاوہ ان کی ٹانگ اور سر میں بھی معمولی زخم آئے۔انہیں فوری طور پر کمبائنڈ ملٹری ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بیان کی جاتی ہے۔ملزم اسلم قریشی ولد روشن دین سیالکوٹ کے محلہ امام صاحب کا رہنے والا ہے۔مسٹر احمد پر قاتلانہ حملہ کی خبر سننے کے فوراً بعد اعلیٰ حکام اور مسٹر احمد کے دوست احباب بڑی تعداد میں ہسپتال پہنچ گئے۔ان میں صدر کے مرکزی سیکرٹریٹ کے مشیر مسٹر غیاث الدین ، ڈپٹی کمشنر راولپنڈی اور ڈی آئی جی مسٹر عباس مرزا بھی شامل تھے۔تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مسٹرایم ایم احمد سیکرٹریٹ کے اندر اپنے دفتر میں جانے کے لئے لفٹ میں سوار ہوئے۔اس وقت صبح کے سوا آٹھ بجے تھے۔ملزم محمد اسلم قریشی بھی ان کے ساتھ ہی لفٹ میں سوار ہو گیا اور جونہی لفٹ کے دروازے بند ہوئے ملزم اسلم نے دولمبے چاقوؤں میں سے ایک نکالا اور مسٹر احمد کے پیٹ میں بائیں طرف گھونپ دیا۔ملزم نے دوسرا وار کرنے کی کوشش کی تو مسٹر احمد نے اسے پکڑنا چاہا۔اس اثنا میں لفٹ آپریٹر نے لفٹ کا دروازہ کھول دیا اور مسٹر احمد کے جمعدار نے جو اُن کا سرکاری بیگ اٹھائے ہوئے تھا ملزم سے چاقو چھین لیا۔اسلم نے اس موقع پر مزاحمت کی لیکن جمعدار سرفراز نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے اپنی گرفت میں لے لیا اور چاقو توڑ ڈالا۔اس اثنا میں چند ملازمین وہاں جمع ہو گئے اور ملزم کو محافظوں کے سپرد کر دیا گیا۔ملزم اسلم نے وہاں پر موجود لوگوں کو گالیاں دیں اور سنگین نتائج کی دھمکی دی۔مسٹر احمد کو بعد ازاں ان کی کار میں لایا گیا اتفاقا ان کے ایک قریبی رشتہ دار جو کراچی کے ممتاز ڈاکٹر ہیں اور جو اُن سے ملنے کے لئے وہاں آئے تھے موقع پر پہنچ گئے چنانچہ سب سے پہلے مسٹر احمد کو اسلام آباد پولی کلینک میں لایا گیا جہاں سے انہیں کمبائنڈ ملٹری ہسپتال پہنچا دیا گیا۔مسٹر ایم ایم احمد نے راستے میں اپنے ڈرائیور سے حملہ آور کے بارے میں دریافت کیا۔مسٹر ایم ایم احمد کے زخموں سے کافی خون نکلا کیونکہ ان کی کار میں بھی بہت سا خون جمع ہو گیا تھا۔انہیں سیدھا آپریشن تھیٹر میں پہنچایا گیا۔اسلام آباد پولیس تفتیش کر رہی ہے اور ملزم سے پوچھ کچھ جاری ہے۔اے پی پی کے مطابق