تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 47
تاریخ احمدیت۔جلد 27 47 سال 1971ء جرمنی میں قبولیتِ دعا کے دونشانات کا ظہور جون ۱۹۷۱ء میں سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی دعاؤں کی حیرت انگیز تاثیر اور قبولیت کے پے در پے دو نہایت ایمان افروز نشان جرمنی میں ظاہر ہوئے۔دونوں کا تعلق ایک ہی مخلص احمدی خاندان سے تھا۔تفصیل اس ایمان افروز واقعہ کی یہ ہے کہ جناب مسعود احمد صاحب جہلمی انچارج فرینکفورٹ مشن کے ہاں نرینہ اولاد نہ تھی اور ان کے بہنوئی محمد شریف صاحب خالد تو پچھلے دس سال سے اولاد سے بالکل ہی محروم تھے۔ڈاکٹروں نے تشخیص کی کہ رحم (Uterus) کے منہ پر کینسر کا اثر ہے جس کے لئے آپریشن ضروری ہے۔خالد صاحب نے حضور کی خدمت میں دعا اور آپریشن کی اجازت کے لئے لکھا۔حضور نے فرمایا آپریشن ہرگز نہ کرائیں اللہ تعالیٰ فضل فرمائے گا۔چوٹی کے چار ڈاکٹروں نے رائے دی کہ بچہ پیدا ہونے کی ۹۹ فیصدی امید نہیں ہے اور جو ایک فیصد امید قائم ہے وہ بھی آپریشن کے بعد ختم ہو جائے گی۔لیکن خدا کے فضل اور حضور کی دعا کی برکت سے جلد ہی بچہ کی ولادت کے آثار نمودار ہو گئے جس کے بعد خالد صاحب مئی ۱۹۷۱ء میں پاکستان آئے ، ربوہ میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ حضور لڑکے اور لڑکی کے نام تجویز فرما دیں تا جب بچہ پیدا ہو اس کا نام فوراً رکھ دیا جائے۔حضور کی زبان مبارک سے نکلا کہ ”میں بچی کے لئے خولہ نام اس شرط پر تجویز کرتا ہوں کہ جب یہ بڑی ہو تو آپ اس کو شہسواری سکھائیں گے تا یہ معنا بھی حضرت خولہ کی مثیل ہو“۔خالد صاحب نے مسعود احمد صاحب جہلمی کے لئے بھی اولا دنرینہ عطاکئے جانے کی درخواست دعا کی۔حضور چند سیکنڈ کے لئے خاموش رہے پھر ارشاد فرمایا: ”مسعود احمد کو اللہ تعالیٰ لڑکا دے گا انشاء اللہ۔اس کا نام لقمان احمد تجویز کرتا ہوں“۔بشیر احمد خان صاحب رفیق اُن دنوں پرائیویٹ سیکرٹری کے فرائض انجام دے رہے تھے وہ اس موقع پر موجود تھے اور انہوں نے یہ آسمانی بشارت انہی دنوں بذریعہ ڈاک بھجوادی اور پیشگی مبارک باد بھی دے دی۔خالد صاحب نے جرمنی واپسی پر ۸ جون ۱۹۷۱ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی خدمت میں بذریعہ مکتوب یہ خوشکن اطلاع دی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو لڑکی سے نوازا ہے۔چنانچہ لکھا:۔