تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 46 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 46

تاریخ احمدیت۔جلد 27 46 سال 1971ء مستفیض ہوتے رہے ہیں اس لئے ان کے واسطے تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ کبھی آپ کی یاد کو بھلا سکیں۔ماتحتوں کے ساتھ آپ کا حسن سلوک ، قدم قدم پر پدرانہ شفقت کا مسلسل اظہار اور ہر ایک کی بھلائی اور حوصلہ افزائی کا شعار ایسی چیزیں نہیں ہیں جنہیں بھلایا یا فراموش کیا جاسکے۔آج ہم بڑے ہی مغموم دل کے ساتھ اپنے واجب الاحترام اور ماں باپ کی طرح شفیق بزرگ افسر جناب شیخ روشن دین صاحب تنویر کو صمیم قلب سے الوداع کہتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آئندہ بھی آپ کا حامی و ناصر ہو۔آپ کی خدمات جلیلہ کا آپ کو بہترین اجر دے“۔مولا نا روشن دین تنویر صاحب نے ایڈریس کے جواب میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا :۔”میرے عزیز نے ابھی جن جذبات کا اظہار کیا ہے ان کی میرے دل میں بہت قدر ہے۔یہ خدا کا فضل ہے کہ اس نے مجھے اتنا طویل عرصہ خدمت کی توفیق عطا کی۔اس میں میری کوئی خوبی نہیں اور نہ میں اپنے میں کوئی خوبی پاتا ہوں۔یہ تو میرے مولیٰ کا فضل اور احسان ہے جس نے مجھ ناچیز کو خدمت کی سعادت بخشی اور کچھ نہ ہونے کے باوجود کام کی توفیق سے نوازا۔جہاں تک اس ایڈریس کا تعلق ہے جو ابھی میرے عزیز نے پڑھا ہے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں اس سے بہت متاثر ہوا ہوں حتی کہ اس وقت میں اپنے جذبات کے اظہار پر بھی قادر نہیں ہوں۔میرے اس عزیز نے جس بے لوث جذبہ کے ماتحت جس پر درد انداز میں یہ ایڈریس پڑھا ہے اس نے میرے دل کی کیفیت کو بدل کر رکھ دیا ہے اور آپ لوگوں کے ساتھ طویل رفاقت کے بعد جدائی کے احساس میں اتنی شدت پیدا کر دی ہے کہ میرے لئے اس وقت اپنے جذبات کا اظہار بھی ممکن نہیں رہا۔میں صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ میرا دل رو رہا ہے۔“ اتنا کہہ کر مولانا تنویر صاحب کی آواز بھتر اگئی اور رقت کا عالم طاری ہو گیا۔اس کے بعد آپ کوشش کے باوجود ایک لفظ بھی زبان سے ادا نہ کر سکے اور آنکھوں سے ٹپکنے کے لئے بے چین آنسوؤں کو پینے کی کوشش میں مزید کچھ کہے بغیر بیٹھ گئے۔ایک عجب دردانگیز منظر تھا جس کے زیراثر سب کے چہروں پر اداسی چھا گئی۔تقریب کے اختتام پر جب مولانا تنویر صاحب سب سے باری باری ہاتھ ملانے کے بعد تشریف لے جانے لگے تو جناب مسعود احمد صاحب کو بہت محبت بھرے انداز میں دیکھتے اور مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔آج تم نے مجھے رونے پر مجبور کر دیا۔50