تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 42
تاریخ احمدیت۔جلد 27 42 سال 1971ء پس مخالفت کا ہر جگہ رنگ بدل جاتا ہے لیکن مخالفت قائم رہتی ہے تا کہ جماعت سو نہ جائے۔یہ بھی دراصل اللہ تعالیٰ کی بڑی رحمت ہے اگر ہر طرح سے بالکل امن پیدا ہو جائے تو بہت سی کمزوریاں پیدا ہو جائیں۔اسی واسطے جہاں زیادہ امن ہوتا ہے وہاں کمزوریاں زیادہ جلدی نظر آ جاتی ہیں مثلاً ہمارے ربوہ میں اگر کسی آدمی میں ذرا بھی کمزوری ہو تو وہ بڑی نمایاں ہو کر سامنے آ جاتی ہے کیونکہ یہاں ہر لحاظ سے بڑا امن ہے۔دوست یہ بھی دعا کریں کہ سلسلہ احمدیہ کا جو مرکز ہے وہ صحیح معنوں میں مرکز بنار ہے۔۔۔۔۔تیسرے میں نے اپنے متعلق دعا کی تحریک کرنی ہے۔دوستوں کو علم ہے کہ میں گھوڑے سے گرا تھا اور گھوڑے سے آدمی گرا ہی کرتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی گھوڑے سے گرے A بعض دوستوں نے شبہ ڈال دیا ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی گھوڑے سے گرے تھے 45 غرض جو شخص بھی گھوڑے پر سوار ہوتا ہے اسے یہ خطرہ بھی ہوتا ہے کہ میں گھوڑے سے گروں گا۔یہ احساس ساتھ لگا ہوتا ہے۔44 گھوڑے سے گرنے کا واقعہ پیش آیا مگر اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل فرمایا۔اس عمر میں ڈاکٹروں کے کہنے کے مطابق بالکل جوانی کی حالت میں جس رنگ میں ہڈی کو جڑنا چاہیے اس رنگ میں جڑ گئی ہے۔پہلے ۲۱ دن کے بعد ایکسرے لیا گیا تو کیلشیم (Calcium) جس کا ہڈی میں بہت سارا حصہ ہوتا ہے اور وہ صحیح کیلشیم وہاں آ جانا چاہیے اس کو انگریزی میں Calcification کہتے ہیں یعنی ہڈی کو پورا کیلشیم مل گیا۔چنانچہ جب یہ ایکسرے ہوا تو ڈاکٹر کہنے لگے کہ جس طرح جوانی کی حالت میں Calcification ہونی چاہیے تھی اس طرح ہو گئی ہے۔غرض وہ ایکسرے ه رپورٹ دیکھ کر بڑے خوش ہوئے۔الحمد للہ۔لیکن انہوں نے یہ رائے دی کہ ابھی آپ لیٹے رہیں۔جماعت پیار بھی بہت کرتی ہے۔میں نے کہا ڈا کٹر کہتا ہے تو لیٹے رہیں گے۔چنانچہ میں لیٹا رہا۔پھر جو معالج تھے وہ اپنی ڈیوٹی کی وجہ سے آنہ سکے۔دو ہفتے ان کو آنے میں دیر ہو گئی۔گیارہ ہفتے مجھے لٹائے رکھا۔پھر جب ڈاکٹروں نے