تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 41
تاریخ احمدیت۔جلد 27 41 سال 1971ء مجوزہ ہیلتھ سنٹر کا ابھی تک افتتاح نہیں ہو سکا۔دوست دعا کریں کہ نہ صرف اس ہسپتال کا افتتاح ہو بلکہ دوسری جگہوں پر بھی افتتاح کے بعد افتتاح ہوتا چلا جائے۔دراصل میں آپ کو اللہ تعالی کے فضل اور اس کی رحمت کے ایک جلوہ کے ظہور کے متعلق بتانا چاہتا ہوں۔اس مشن ہسپتال کے ڈاکٹروں نے بعض مریضوں کو لا علاج قرار دیا ہوا تھا۔ڈاکٹر جس مریض کو لا علاج قرار دے دے اس کو تو کہیں ذرا سا بھی سہارا ملنے کی امید ہو تو وہ فوراً وہاں پہنچ جاتا ہے۔چنانچہ جب ہمارا ڈاکٹر وہاں پہنچا تو اسی قسم کا ایک لاعلاج مریض بھی ان کے پاس پہنچ گیا۔انہوں نے اس کا علاج کیا تو اس لاعلاج مریض کو افاقہ ہونا شروع ہو گیا۔اللہ تعالیٰ نے اس طرح رحمت فرمائی۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابھی ہمارے ہسپتال کا افتتاح عمل میں نہیں آیا مگر پچاس مریض روزانہ ہمارے ڈاکٹر کے پاس آ رہے ہیں۔غریبوں کا علاج مفت ہو رہا ہے جولوگ پیسے والے ہیں وہ خود ہی کچھ نہ کچھ بطور چندہ دے جاتے ہیں۔ویسے وہ لوگ اس لحاظ سے بڑے اچھے ہیں کہ اگر ڈاکٹر فیس نہ بھی مانگے تب بھی جن کے پاس پیسے ہوتے ہیں وہ خود ہی فیس وغیرہ دے جاتے ہیں یا اگر ڈاکٹر فیس نہیں لے گا تو وہ مناسب رقم چندہ کے طور پر دے جاتے ہیں بہر حال وہ پیسے ضرور دے جاتے ہیں۔اس طرح مالی لحاظ سے بھی برکت حاصل ہوتی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے ڈاکٹروں کے ہاتھ میں شفا بھی رکھ دی ہے۔اللہ تعالیٰ ہی شافی ہے یہ دوائیاں جو اس نے بنائی ہیں یہ اس کے حکم سے شفا دیتی ہیں یہ نہیں کہ آپ ہی ان کا خدا پر زور چلتا ہو یعنی خدا چاہے نہ چاہے مگر دوائی آپ کو شفا دے جائے۔اس زندگی کی اصل حقیقت یہ نہیں ہے بلکہ حقیقت یہی ہے کہ ہم کسی دوا کو اس لئے استعمال کرتے ہیں کہ ہمارے محبوب اللہ نے اسے پیدا کیا ہے اور اس تو کل پر اسے استعمال کرتے ہیں کہ جس ہستی نے کسی دوا کو اپنے عام حکم یا قانون قدرت کے ماتحت بعض خواص بخشے ہیں وہی ہستی یعنی اللہ یہ حکم بھی جاری کرے گا کہ اس دوا کے خواص ہمارے جسم کی کمزوریوں کو دور کر دیں یعنی کسی دوائی کے خواص کے اثر پذیر ہونے کے لئے بھی الہی اذن کی ضرورت ہے کیونکہ شفا اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔