تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 37
تاریخ احمدیت۔جلد 27 37 سال 1971ء (۲) عبد الرب صاحب ( مونکھیری صاحب موصوف کے چھوٹے صاحبزادے۔۱۸ را پریل) (۳) عرفان علی منشی صاحب ( ۱/۲۴ پریل )42 حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب کے اعزاز میں الوداعیہ ۱۲ مئی ۱۹۷۱ء بروز بدھ بعد نماز عصر بمقام ایوان محمود، صدر انجمن احمد یہ پاکستان نے حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب کے اعزاز میں ، جو ربع صدی تک بطور ناظر اعلیٰ صدرانجمن احمد یہ بے لوث اور مخلصانہ خدمات سرانجام دینے کے بعد اپنے عہدہ سے سبکدوش ہوئے تھے، وسیع پیمانے پر الوداعی تقریب کا اہتمام کیا۔جس میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے خصوصی طور پر شرکت فرمائی اور اپنی زریں اور قیمتی نصائح سے بھی نوازا۔اس موقع پر صدر انجمن احمدیہ کے ناظر صاحبان و کارکنان ، تحریک جدید ، وقف جدید، انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کے نمائندگان بھی شامل ہوئے۔تقریب کے رسمی آغاز کے بعد محترم صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب ناظر اعلیٰ نے صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب کی خدمت میں ایک ایڈریس پیش کیا۔جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ ربع صدی تک آپ نے بحیثیت ناظر اعلیٰ نہایت اخلاص ، با قاعدگی اور خوش اسلوبی کے ساتھ سلسلہ کی گراں بہا خدمات سرانجام دیں۔ایڈریس کے بعد دعا کی گئی۔حضرت مرز ا عزیز احمد صاحب نے مختصر الفاظ میں شکریہ ادا کیا۔بعد ازاں حضور انور نے مہمانان کو اپنے بصیرت افروز خطاب سے نوازا۔خطاب حضرت خلیفہ اسیح الثالث حضور انور نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ جو جماعتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے قائم ہوتی ہیں ان کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ ان میں نسلاً بعد نسل ایسے فدائی کارکن پیدا ہوتے رہیں جو قربانی اور ایثار کے تسلسل کو قائم رکھیں اور اس میں کسی مرحلہ پر بھی کمی نہ آنے دیں۔حضور نے فرمایا جماعت احمدیہ کے قیام کی اصل غرض غلبہ اسلام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ زیادہ سے زیادہ تین صدیوں تک ضرور اسلام دنیا میں غالب آجائے گا۔آپ علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایا کہ تین صدیوں تک انتظار کرو بلکہ یہ آخری حد بیان فرمائی ہے۔اس کے معنی یہ ہیں اور حضور کے بعض الہامات سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ اگر افراد جماعت اپنے ایمان واخلاص اور اپنی