تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 27
تاریخ احمدیت۔جلد 27 27 سال 1971ء اپنا بیٹا ہمارے سکول میں داخل کروا دیا ہے۔کسی نے اس سے کہا بھی کہ یہاں تو قرآن کریم ضرور پڑھائیں گے۔اس نے کہا بیشک پڑھا ئیں میں تو اپنے بچے کو یہیں داخل کرواؤں گا۔علاوہ ازیں بعض پیرا ماؤنٹ چیفس کے بچے والدین سے لڑتے ہیں کہ ہم نے ”احمدیہ میں داخل ہونا ہے۔افریقہ کی زبان میں ”احمدیہ سے مراد احمد یہ سکول ہے چنانچہ وہ خالی احمد یہ کہتے ہیں کہ ہم نے احمدیہ میں داخل ہونا ہے یعنی ہم احمدیوں کے سکول میں جائیں گئے۔33 اس سکول کا افتتاح وزیر تعلیم الحاج ای گار با جمپا (Alhaj E۔Garba Jahumpa) نے کیا۔سکول کے پہلے پرنسپل جناب نسیم احمد صاحب تھے۔ان کے ساتھ پہلے شامل ہونے والے اساتذہ میں سے ان کی بیگم صاحبہ بیگم نگہت نسیم صاحبہ کے علاوہ دو گیمبیا سے مقامی احمدی اسا تذہ جناب ابراہا ایم بو اور عمر کیسے تھے۔سکول میں پہلے داخل ہونے والے طلباء کی تعداد ۲ے تھی اور ابتدائی طور پر سکول کی عمارت 3 کمروں پر مشتمل تھی۔اگلے دو سالوں میں سکول کے پہلے بلاک کی تعمیر کا کام مکمل ہو گیا۔۱۹۷۴ء میں U۔S۔A ایمبیسی کی مالی مدد سے سکول کا نیا حصہ سائنس بلاک تعمیر ہوا۔۱۹۷۵ء تک جب سکول ہر طرح سے اچھی طرح چلنا شروع ہو گیا جو نہی سکول میں ہر قسم کا فرنیچر، سائنسی سامان اور عمارت سب چیزیں مکمل ہو گئیں تو گیمبیا کی حکومت نے اسے حکومت کے تحت چلانے کا ارادہ کیا اور اسی طرح سکول کے ٹیچرز کی تنخواہ وغیرہ حکومت نے دینا شروع کر دی۔یہ اعزاز سب سے پہلے ملک میں اس سکول کو حاصل ہوا کہ اس نے پہلی دفعہ اسلامی تعلیمات، معاشیات، شماریات اور عربی کو بطور سکول مضامین متعارف کروایا۔34 احمد یہ سیکنڈری سکول آسوکورے۔خانا اس سکول کی بنیاد نومبر ۱۹۷۱ء کے اوائل میں رکھی گئی۔پاکستانی ہائی کمشنر ایس اے معید صاحب مقیم غانا نے اس سکول کی عمارت کا سنگ بنیا درکھا۔آپ نے آسوکورے میں احمد یہ ہسپتال کا بھی معاینہ فرمایا۔35 سے تعلیم الاسلام احمد یہ سیکنڈری ووکیشنل سکول اسار چر۔غانا اسار چرغانا کے دارالخلافہ اکرہ سے ۵۵ میل کے فاصلہ پر سینٹرل ریجن میں واقع ہے۔یہ وہ