تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 305
تاریخ احمدیت۔جلد 27 305 سال 1971ء ایک بہت بڑی جماعت ہے اور جہاں ایک احمدی خاتون الحاجیہ فاطمہ کی اپنے سرمایہ سے تعمیر کی ہوئی عالیشان مسجد کا حضور نے اپنے دورہ کے دوران افتتاح فرمایا تھا، کے ایک ذیلی گاؤں موضع اموسان Imosan کی ترقیاتی کونسل کی طرف سے ایک پیغام پہنچا کہ وہ ایک بہت بڑا قطعہ اراضی دینے کو تیار ہیں۔بشرطیکہ وہاں تعلیمی درسگاہ قائم کرے۔خاکسار نے یہ پیغام سنتے ہی لیگوس سے دو افراد پر مشتمل ایک وفد بھجوایا کہ اس سلسلے میں ترقیاتی کونسل کے ممبران سے مل کر مزید تفصیلات طے کی جائیں۔وفد کی رپورٹ اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہایت خوشکن تھی۔اموسان کے رؤساء ۱٫۱۲۰ یکٹر زمین دینے پر رضامند ہو گئے۔جہاں کہ تعلیمی درسگاہ کے علاوہ ایک ہسپتال اور ایک دینی مدرسہ بھی قائم کیا جائے گا۔یہ بھی طے پایا کہ مجوزہ قطعہ اراضی، ایک بہت بڑی تقریب منعقد کر کے باقاعدہ طور پر جماعت کے سپر د کیا جائے۔یہ تقریب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ۱۷ صلح ۱۳۵۰ ہجری شمسی کو بڑی دھوم دھام سے عمل میں آئی جس میں اموسان قصبہ کا ہر بوڑھا اور بچہ اپنے روائتی جبوں میں ملبوس شامل ہوا۔جماعت کے افراد بھی بڑی کثرت سے شامل ہوئے۔اس تقریب میں کونسل کے جنرل سیکرٹری نے کونسل کی طرف سے ۱۲۰ ۱۷ یکٹر زمین احمدیہ مشن کو پیش کرنے کا اعلان کیا جسے خاکسار نے جماعت کی طرف سے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔مقامی اخبارات میں اس تقریب کا اچھا خاصا چرچا ہوا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ اسی دوران اموسان قصبہ کے مسلمان طبقہ میں احمدیت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی جستجو پیدا ہوئی۔سب سے پہلے ایک شخص احسن نامی اور اس کے گھر کے سارے افراد تھوڑی سی تحقیق کے بعد جماعت میں شامل ہو گئے پھر اس کی تبلیغ سے جلد ہی شہر کے ایک معزز شخص مسٹر خلیل اور میں اور اس کے اہل وعیال نے احمدیت قبول کر لی۔جب مذکورہ بالا تقریب منعقد ہوئی تھی تو اموسان کی جماعت انہی دونوں گھرانوں کے افراد سے عبارت تھی مگر رفتہ رفتہ قصبہ میں احمدیت کے متعلق جستجو بڑھتی گئی اور کئی ایک اور افراد بھی جماعت میں دلچسپی لینے لگے۔ادھر ایک تقریب یہ پیدا ہوئی کہ اجیبو اوڈے حلقہ کا سہ ماہی اجلاس اموسان قصبہ میں ہی قرار پایا۔اس اجلاس کے آخر پر خاکسار نے اموسان میں مسجد تعمیر کرنے کی ضرورت اور اس کے لئے چندہ کی تحریک کی جس کے نتیجہ میں ۳۰ پونڈ کی رقم عین موقع پر اکٹھی ہوگئی اس رقم سے مسجد کے لئے زمین خرید لی گئی۔دوسری طرف اس مختصرسی جماعت نے مسجد کے سنگ بنیاد کی تقریب منعقد کر کے تبلیغ کا ایک سنہری موقع پیدا کر دیا۔اس سے قبل وہاں اس رنگ میں تبلیغ کرنے کا موقع ابھی تک نہیں ملا تھا۔چنانچہ جلد ہی ۱۵ کے