تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 304 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 304

تاریخ احمدیت۔جلد 27 304 سال 1971ء کو کافی نہیں پاتے اور ہم امید کرتے ہیں کہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے۔ہم اس موقعہ پر نائیجیریا مشن کے اجیبو اوڈے سرکٹ کی مجلس عاملہ کے ارکان کے بھی تہہ دل سے ممنون ہیں کہ وہ اس منصوبہ کے سلسلہ میں اپنی تمام کوششوں کو بروئے کار لا کر احمد یہ مشن کے Imosan میں قیام کا باعث ہوئے۔122 جہاں تک نائیجیریا میں تبلیغ و اشاعت کا تعلق ہے اے۔۱۹۷۰ء میں متعدد نئی جماعتیں قائم ہوئیں اور دو سو سے زائد افراد نے قبول اسلام کیا جس کی تفصیل مولا نا فضل الہی صاحب انوری مشنری انچارج نائیجیریا کے قلم سے درج ذیل کی جاتی ہے:۔گذشتہ ایک سال نائیجیریا کی تاریخ احمدیت میں ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔ماہ شہادت ۱۳۴۹ (اپریل ۱۹۷۰ ء ) وہ مبارک مہینہ ہے جس میں مامور زمانہ کے تیسرے خلیفہ حضرت ناصر دین سید نا حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کے مبارک وجود نے اپنے تاریخی سفر کے سلسلہ میں مغربی افریقہ کے ملک نائیجیریا کی سرزمین میں قدم رکھا۔اس وقت سے لے کر اب تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے آثار نظر آرہے ہیں جن سے خلافت کی برکات کا ایک نمایاں ثبوت ملتا ہے۔الا باٹا میں جماعت کا قیام سب سے پہلے ابادان Ibadan کے نواحی علاقہ میں ایک مقام الا باٹاAlabata کے رؤساء کی طرف سے ایک وفد باد ان کی جماعت احمدیہ کے پریذیڈنٹ کے پاس آیا اور یہ پیغام لایا کہ انہیں بتایا جائے کہ احمدیت کیا چیز ہے۔ابادان وہ شہر ہے جہاں ایک بڑے ہال میں حضور انور نے اپنا وہ تاریخی خطاب پڑھا جو A Message of Hope پیغام امید) کے نام سے چھپ چکا ہے۔چنانچہ جماعت کے دوستوں نے ایک دن مقرر کر کے ان کے ہاں آنے کا وعدہ کیا۔جماعت کا وفد مقررہ دن وہاں پہنچا تو ان کے استقبال کے لئے علاقہ کے چالیس معززین موجود تھے۔کئی گھنٹوں کی بحث اور سوال وجواب کے بعد ۴۰ کے قریب افراد جماعت میں شامل ہونے کے لئے تیار ہو گئے۔یہ پہلا شیریں پھل تھا جو ایک بڑی جماعت کی صورت میں نصرت جہاں سکیم کے شجرہ طیبہ کو لگا۔اموسان میں ۱۲۰ /۱ یکٹر زمین کا عطیہ اور جماعت کا قیام ابھی اس جماعت کو قائم ہوئے چند ہفتے ہی گزرے تھے کہ اجیبواوڑےIjebu Ode جہاں