تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 284
تاریخ احمدیت۔جلد 27 284 سال 1971ء بچاؤ کی کوئی ممکن صورت سوائے کسی غیر دنیوی بیرونی Super اور Strong ہاتھ کی دخل اندازی کے ہرگز ممکن نہیں“۔99 ”ظاہر ہے کہ چرچل اور آئزن ہاور کا مذکورہ بالا بیرونی طاقتور ہاتھ سوائے خدا تعالیٰ کے ہاتھ کے اور کوئی نہیں ہو سکتا۔پس اگر ہم چاہتے ہیں کہ بچائے جائیں تو آیئے اپنے خدا اپنے خالق و مالک اور اس وحدہ لا شریک رحیم و کریم ہستی کو راضی کر لیں اور اس کے احکامات کے پابند ہو کر مذہبی زندگی بسر کریں۔جب تک انسان اپنے خدا کو راضی نہیں کرے گا اور اس کے حضور توبہ و استغفار سے نہیں جھکے گا خدا تعالیٰ کی خفگی اور اس کا غضب اور قہر دھیما نہیں ہوگا اور عالمگیر تباہی سے دنیا کا بچاؤ ممکن نہیں ہوگا بلکہ الہی نوشتوں اور پیشگوئیوں کے مطابق تیسری عالمگیر جنگ انسان اور اس کی بھونڈی مادی اور روحانیت سے عاری نئی تہذیب و تمدن کو یکسر تباہ کر کے دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دے گی اور اس تباہی اور ہلاکت سے وہی بچائے جائیں گے جو خدا اور اس کے رسولوں اور ان کی لائی ہوئی صداقتوں کو قبول کر کے اور اس کے ہو کر آپس میں امن و شانتی اور اخلاق سے رہیں گئے۔100 دو سال قبل ناندی شہر میں ایک وسیع مسجد ، مشن ہاؤس اور لائبریری کے قیام کے لئے مولوی نور الحق صاحب انور اور بعض دیگر مخلصین جماعت کی کوششوں سے ایک نہایت موزوں قطعہ زمین حاصل کر لی گئی تھی جس پر بعد میں ڈاکٹر سید ظہور احمد شاہ صاحب نے مشن ہاؤس کی بنیاد رکھی اور عمارت کا نچلا حصہ یعنی مشنری کوارٹرز کا کام اکتوبر ۱۹۷۰ ء تک ہوتا رہا لیکن چھت چڑھانے کے بعد عمارت کی تعمیر کچھ عرصہ تک معرض التوا میں رہی۔اپریل ۱۹۷۱ء میں جماعت احمد یہ نبی کے سالانہ جلسہ کے موقع پر مشن ہاؤس کی تکمیل اور اس پر شاندار مسجد بنانے کے لئے خصوصی مالی تحریک کی گئی جس پر تمام جماعتوں نے والہانہ طور پر قربانی کی۔یہی نہیں بلکہ مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری کی تحریک پر نجی کے اولین مبائع احمدی اور ناندی کے لینڈ لارڈ حاجی محمد رمضان صاحب نے جلسہ میں اعلان کر دیا کہ منظور شدہ نقشہ کے مطابق خدا کے گھر کی تعمیر و تکمیل کی سب ذمہ داری وہ اٹھاتے ہیں جس پر ہر طرف سے شکریہ، آفرین اور دعاؤں کی صدائیں بلند ہوئیں اور پھر مئی ۱۹۷۱ء میں بیک وقت نچلی عمارت کی تکمیل اور دوسری منزل پر بیت کا کام پورے جوش و خروش سے شروع ہو گیا اور سال کے آخر تک پوری عمارت ہر طرح سے پایہ تکمیل تک پہنچ گئی۔خدا کے گھر کا نام مسجد اقصیٰ رکھا گیا اس شاندار عمارت کے جملہ کاموں کی نگرانی اور سب ضروریات مہیا کرنے کی خدمت محبوب یوسف خانصاحب جنرل سیکرٹری