تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 15 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 15

تاریخ احمدیت۔جلد 27 15 سال 1971ء ڈاکٹر آفتاب احمد صاحب انچارج ہسپتال لکھتے ہیں۔جیسے ہی مقامی ریڈیو پر احمد یہ ہسپتال کے کھلنے کی خبر شروع ہوئی قصبہ میں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی۔اور بہت سارے لوگ مبارک باد دینے کیلئے گھر تشریف لائے۔پہلے دن پندرہ مریض آئے، دوسرے دن پچاس، تیسرے دن پچھتر اور آجکل ۱۸۰ کے قریب مریض روزانہ آرہے ہیں۔دو ہفتہ کے اندر ہی دس بستر بھر گئے۔دو عیسائی مریض اس عرصہ میں ایسے آئے جو میرے سامنے بیٹھ کر پکار اٹھے کہ واقعی صحت اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔اب کئی عیسائی مرد اور عورتیں مجھے اور میری بیوی کو Good morning کی بجائے السلام علیکم کہتے ہیں۔اس عاجز نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ علی الصبح ۴:۳۰ بجے مریض دوائی حاصل کرنے کے لئے جگہ پر قبضہ کرنے کیلئے اس ہسپتال میں پہنچے۔20 فروری ۱۹۷۲ ء میں میڈیکل ڈائریکٹر نے سروے کیا۔بعض متعصب عیسائیوں کے کہنے پر ہسپتال کی اکثر چیزوں کو ناقص قرار دیا جس کے باعث ہسپتال کچھ عرصہ کے لئے بند کرنا پڑا لیکن پھر متواتر کوشش اور جدوجہد کے ذریعہ اکتوبر ۱۹۷۲ء میں ہی ہسپتال کھولنے کی اجازت حاصل کر لی گئی اور کام شروع ہو گیا۔جب ہسپتال دوبارہ کھلا تو عوام نے پہلے سے بڑھ کر خوشی منائی اور مریضوں کی تعداد میں بھی کئی گنا اضافہ ہو گیا یہاں تک کہ ڈاکٹر صاحب کو کرایہ کے مکان میں بے حد تنگی محسوس ہونے لگی۔چنانچہ ایک بڑا وسیع مکان خرید کر اس میں ہسپتال کی ضروریات کے مطابق کچھ نئے حصے بنائے گئے اور ہسپتال اس میں منتقل کر دیا گیا۔21 مجلس نصرت جہاں کے غیر مطبوعہ ریکارڈ کا ذکر کرتے ہوئے مکرم وقار احمد بھٹی صاحب اپنے مقالہ میں رقمطراز ہیں کہ:۔وو نئے ہسپتال کی عمارت نہایت خوبصورت، صاف ستھری اور ہسپتال کی تمام عمومی ضرورتوں کو پورا کرنے والی ہے۔ہسپتال کے آؤٹ ڈور بلاک میں کمرہ انتظار کے علاوہ آٹھ کمرے ہیں۔کمروں کے درمیان میں برآمدہ ہے ان کمروں کے علاوہ غسل خانوں اور بیت الخلاء کی سہولت مہیا ہے۔ہر ایک کمرے میں الگ الگ شعبے یعنی رجسٹریشن، طبی مشورہ ، انجکشن روم، ڈسپنسری، مرہم پٹی کا کمرہ اور میڈیکل سٹور، لیبارٹری ایکسرے وغیرہ کے لئے مخصوص ہیں۔انڈور (Indoor) میں پانچ کمرے ہیں جن میں سے تین بڑے وارڈ دو چھوٹے وارڈ ہیں جو کل