تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 235
تاریخ احمدیت۔جلد 27 235 سال 1971ء اجتماعی زندگی میں ہم سب ایک ہی صف میں کھڑے ہوئے ایک ہی رنگ و روغن اور ایک ہی سے محاسن و معائب سے متصف نظر آتے ہیں لیکن اپنی دسترس کے مطابق ایک مخصوص سطح پر آپ نے جو نمونه تعمیر و ترقی پیش کیا ہے وہ ہم سب کے لئے مقام بصیرت ہے اور ترغیب تقلید دیتا ہے۔51 انگلستان کے تین ہزار بے مصرف کلیسا انگلستان کے اخبار ڈیلی ٹیلی گراف نے مورخہ ۲ جولائی ۱۹۷۱ء کے شمارہ میں ” تین ہزار متروک کلیسا‘“ کے عنوان سے مندرجہ ذیل رپورٹ شائع کی۔وہ لکھتا ہے : وو 66 ” بے مصرف و بیکار کلیساؤں کے متعلق مشاورتی بورڈ نے اپنی دوسری رپورٹ میں کہا ہے کہ انگلستان میں اٹھارہ ہزار انگلیکن کلیساؤں میں سے تین ہزار کلیسا یکسر فالتو ہیں۔لارڈ فلیچر نے جو اس بورڈ کے صدر ہیں اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ طریق کارجس کی رو سے گر جوں کو بریکار قرار دیا جاتا ہے قطعاً غیر تسلی بخش ہیں۔ہمارے قصباتی گرجوں کے بیش قیمت ورثہ کی تباہی سے ہونے والے نقصان سے بچنے کے لئے مزید روپیہ اور سرکاری امداد کی ضرورت ہے۔جن گرجوں کے متعلق بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ دیگر ضروریات کے لئے ان کو استعمال میں لایا جائے۔ان میں سے بعض گرجے شکسپیر تھیٹر ، ریستوران، لائبریری، عجائب گھر ، ناچ گھر اور کا نفرنس ہال میں تبدیل کئے جارہے ہیں۔“ انگلستان کے اخبار ٹائمز نے یکم جولائی ۱۹۷۱ ء کے شمارہ میں ”نئی کلیساؤں کی تعمیر کفر ہے“ کے عنوان سے درج کیا کہ میتھوڈسٹ کانفرنس کے آج کے اجلاس میں ڈاکٹر جے جے ونسنٹ آف شیفیلڈ نے اعلان کیا کہ کلیساؤں کے لئے نئی عمارات کی تعمیر کفر کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ اسے کفر کا نام اس لئے دیا جارہا ہے کہ ہم مسیح کے غلام ہیں اس مسیح کے جسے سر چھپانے کے لئے بھی جگہ میسر نہ تھی۔پھر یہ اس لئے بھی کفر ثابت ہوئے بغیر نہیں رہتا کہ خدا کی اس دنیا میں ان عمارتوں سے باہر جنہیں ہمارے آباؤ اجداد نے محبت اور پیار کے جذبہ کے ماتحت تعمیر کیا تھا بہت سے ناروا اور مکروہ واقعات رونما ہورہے ہیں۔ڈاکٹر ونسنٹ نے تجویز کیا کہ غیر ضروری گرجوں کی فروخت سے حاصل کیے ہوئے روپے سے اب کمیونٹی ہاؤس خرید نے چاہئیں۔52