تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 231 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 231

تاریخ احمدیت۔جلد 27 231 سال 1971ء جامعہ نصرت ربوہ ( برائے خواتین ) کی سالانہ کھیلیں اور ڈائریکٹریس سپورٹس پنجاب یونیورسٹی کی آمد اس سال جامعہ نصرت ربوہ کی سالانہ کھیلیں ۲۷ فروری بروز ہفتہ انعقاد پذیر ہوئیں۔محترمہ رضیہ اعظم علی بیگ صاحبہ ڈائریکٹریس سپورٹس پنجاب نے کھیلوں کے افتتاح کا اعلان فرمایا۔اور کھیلوں کے اختتام پر محترمہ نے جیتنے والی کھلاڑی طالبات میں انعامات تقسیم فرمائے تقسیم انعامات کے بعد آپ نے طالبات سے خطاب فرمایا اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں مبارک باد دی۔نیز اس امید کا اظہار فرمایا کہ یہ ادارہ محترمہ ڈائریکٹریس صاحبہ حضرت سیدہ ام متین صاحبہ کی زیر نگرانی آئندہ بھی بہترین نتائج اور نمایاں ترقیات کا حامل رہے گا۔آپ کا کہنا تھا کہ ہر تعلیمی ادارے میں دوران سال دو تقریبات زیادہ دلچسپ ہوتی ہیں ایک کانووکیشن اور دوسری سپورٹس۔سپورٹس کی تقریب بہت ہلکی پھلکی اور پر لطف تقریب ہوتی ہے۔تمام طالبات بڑے جوش وخروش سے حصہ لیتیں۔آپ نے طالبات کو نبوٹ (مارشل آرٹ کی ایک قسم ) اور شہری دفاع کی تربیت حاصل کرنے کی طرف توجہ دلائی۔آپ نے فرمایا نبوٹ خاص طور پر مشرقی فن ہے۔اس کے سیکھنے سے اپنی عزت و ناموس کی حفاظت کر سکتی ہے۔اور شہری دفاع کی تربیت ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر بے حد لازمی ہے۔49 جرمنی کے کلیساؤں کی نا گفتہ بہ حالت لنڈن کے مشہور رسالہ Awake نے اپنی ۲۲ مارچ ۱۹۷۱ء کی اشاعت میں جرمنی کے کلیساؤں کی حالت زار سے متعلق تحریر کیا کہ جرمنی میں ہر سال لاکھوں کی تعداد میں عیسائی عوام رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کلیساؤں کو خیر باد کہہ رہے ہیں۔برلن کے بشپ کرٹ شارف صاحب ( Kurt Scharf) نے کہا ہے کہ : برلن اور جرمنی میں کلیساء کی حالت ناگفتہ بہ ہوگئی ہے۔ان لوگوں کی تعداد جو کلیساء سے ہر 66 سال بیزاری کا اظہار کرتے ہیں ہمارے اندازوں سے بے حد زیادہ ہے۔چرچ سے بیزاری کے موجودہ رجحان کے متعلق ۱۹۷۰ء میں پادریوں کی ایک میٹنگ نے اظہار افسوس کیا ہے۔مثلاً فرینکفورٹ کے پروفیسرھین روز نبر برگر نے کہا:۔