تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 211
تاریخ احمدیت۔جلد 27 یعقوب شریف صاحب وفات : دسمبر ۱۹۷۱ء 211 سال 1971ء آپ جماعت احمدیہ سیرالیون کے ایک مخلص اور پرانے احمدی تھے۔آپ نے دسمبر ۱۹۷۱ء میں وفات پائی۔آپ اولین احمدیوں میں سے تھے ، نہایت مخلص اور دین کا درد رکھنے والے بزرگ تھے۔آپ باوجود کمزور مالی حالات کے ہر ماہ با قاعدہ چندہ کی ادائیگی کے لئے مستعد رہتے تھے۔سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کی طرف سے نصرت جہاں اسکیم کا اعلان ہو چکا تھا لیکن آپ کی کمزور مالی حالت کے باعث آپ کو اطلاع نہ کی گئی۔جب آپ کو اس بارہ میں معلوم ہوا تو کہنے لگے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ حضور انور ایک تحریک جاری فرمائیں اور میں اس میں حصہ نہ لوں۔میں اس تحریک میں ضرور شامل ہوں گا۔زندگی کا کیا اعتبار ہے اگر میں کل مرجاؤں تو خدا کو کیا جواب دوں گا۔112 کیپٹن سرتاج علی امتیا ز ز بیری صاحب شہید آپ محمود اختر ز بیری صاحب شہید کے بڑے بھائی اور احتیاج علی زبیری صاحب آف راولپنڈی کے صاحبزادے تھے۔آپ نے ۱۹۶۵ء کی جنگ لڑی اور غازی بن کر واپس لوٹے۔۶۸۔۱۹۶۷ ء میں آپ کی تعیناتی کیڈٹ کالج چٹا گانگ مشرقی پاکستان میں ہوئی۔مارچ اپریل ۱۹۷۱ء میں مکتی باہنی نے کیڈٹ کالج پر حملہ کیا تو آپ نے قریبی آرمی کیمپ میں جانے کی کوشش کی۔اس دوران لا پتہ ہو گئے۔جب ایک عرصہ گذر جانے تک بھی آپ کا کچھ پتہ نہ چلا تو سرکاری طور پر آپ کی شہادت کا اعلان کر دیا گیا۔113 میجر مصلح الدین احمد سعید صاحب شہید آپ مکرم مولوی مسیح الدین صاحب ساکن کو ٹھہ ضلع مردان کے بڑے صاحبزادے اور مکرم خان شمس الدین خان صاحب کے بھتیجے تھے۔آپ کے والد صاحب ۱۹۱۰ ء میں جبکہ آپ فیروز پور میں تھے مکرم مولوی فرزند علی خاں صاحب کے ذریعہ احمدی ہوئے تھے۔آپ ۱۹۷۱ء کی پاک بھارت جنگ میں ۱۵ دسمبر کو لاپتہ ہو گئے۔خیال کیا گیا کہ اُن کو قید کر لیا گیا ہے لیکن آپ کا نام قیدیوں کی فہرست میں بھی شامل نہ تھا۔تلاش بسیار کے باوجود جب آپ کا کچھ پتہ نہ چل سکا تو آپ کی شہادت کا سرکاری طور پر اعلان کر دیا گیا۔114