تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 204 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 204

تاریخ احمدیت۔جلد 27 مولوی ابوالفضل محمود صاحب وفات: ۲۹ ستمبر ۱۹۷۱ء 204 سال 1971ء دعوت الی اللہ کا شوق جنون کی حد تک پہنچا ہوا تھا۔قادیان میں آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض کتب و اشتہارات اور ٹریکٹوں کی اشاعت کی سکیم تیار کی۔جس کے تحت جماعتی لٹریچر مفت یا برائے نام قیمت میں شائع کر کے اسے ملک بھر میں پھیلا دیا۔ان کی ایک مطبوعہ تحریر سے پتہ چلتا ہے کہ تین لاکھ سے زائد ٹریکٹ اور کتابیں شائع کرنے کی آپ کو توفیق ملی۔کئی مخلص اور مخیر احمدی اس سکیم کے لائف ممبر تھے۔آپ کو تحریک جدید کی پانچ ہزاری فوج میں شامل ہونے کی سعادت بھی حاصل تھی۔96 سیدہ کلثوم بانو صاحبہ اہلیہ حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب بھٹی وفات: ۷ اکتوبر ۱۹۷۱ء سیده کلثوم بانو صاحبہ، حضرت سید عزیز الرحمن صاحب بریلوی صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صاحبزادی اور اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری عبداللطیف خان صاحب کی خوشدامن اور لجنہ اماءاللہ کی ابتدائی ممبرات میں سے تھیں۔97 کرنل قاضی محمد انور جان ہوتی مردان وفات : ۱۶ راکتو برا ۱۹۷ء قاضی محمد عمر صاحب آف ہوتی کے خلف الرشید اور قاضی عبد الحق صاحب کے پوتے تھے 98 جو حضرت قاضی محمد یوسف صاحب کے ذریعہ حلقہ بگوش احمدیت ہوئے۔کمانڈر انچیف افواج ہند نے دوسری جنگ عظیم کے دوران اعلیٰ خدمات کے صلہ میں سند خوشنودی عطا کی۔۱۹۴۷ء ( تقسیم ہند ) کے دوران مشرقی پنجاب کے مظلوم مسلمانوں کے قافلوں کو سکھوں کے خونی جتھوں سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔قیام پاکستان کے بعد عرصہ تک گورنر مشرقی پاکستان کے ملٹری سیکرٹری کے عہدہ پر فائز رہے اور احسن کارکردگی پر حکومت پاکستان سے تمغہ قائد اعظم کا قابل فخر اعزاز عطا ہوا۔سلسلہ کے فدائی تھے۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے آپ کی جماعتی خدمات پر اپنی دستخطی سند خوشنودی مرحمت فرمائی۔نڈر اور جانباز جوانمرد تھے۔مرض الموت کے دوران جب سی ایم ایچ ہسپتال راولپنڈی میں