تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 203 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 203

تاریخ احمدیت۔جلد 27 203 سال 1971ء چوہدری محمد عبداللہ صاحب ایک محبت کرنے والے دوست اور سلسلہ احمدیہ کے مخلص خادم تھے۔خاموش طبع اور محنتی کارکن تھے۔فوجی تربیت یافتہ تھے۔بعد میں عرصہ دراز تک مدرس رہے۔ڈسٹرکٹ بورڈ میں بھی اور پھر جماعتی مقامی سکول میں بھی ان کے پڑھائے ہوئے بچے بالعموم خوش خط سلجھے ہوئے اور مقابلوں میں امتیازی کیفیت کے حامل ہوتے تھے۔کھاریاں کے تعلیم الاسلام پرائمری سکول کو مڈل میں اور پھر باوجود نامساعد حالات کے ہائی سکول میں ترقی آپ کی یادگار رہے گی۔آپ نے ۱۰ ستمبر ۱۹۷۱ء کو وفات پائی۔94 سیدہ طیب النساء صاحبه وفات : ۲۲ ستمبر ۱۹۷۱ء سیدہ طیب النساء صاحبہ، سید نصیر الدین صاحب مہاجر قادیان کی دختر اور خواجہ معین الدین صاحب باہمن ضلع لاہور کی اہلیہ تھیں۔خواجہ معین الدین صاحب کی والدہ حبیب النساء صاحبہ نے اپنے آپ کو حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کی خدمت کے لئے وقف کر دیا تھا۔حضرت اماں جان ہی کی تحریک پر سید نصیر الدین صاحب نے یہ رشتہ کیا جو ان دنوں مدراس کے قریب رہتے تھے لیکن قادیان آنے کیلئے کرایہ تک کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔حضرت اماں جان نے اخراجات سفر کے لئے مبلغ پانچ صد روپے عنایت فرمائے اور سید نصیر الدین صاحب مع اہل وعیال ہجرت کر کے قادیان آگئے۔دوسرے دن حضرت اماں جان کچھ پار چات اور زیورات لے کر ان کے گھر تشریف لے گئیں اور دلہن کو اپنے گھر دار اسی میں لے آئیں۔اس طرح طیب النساء صاحبہ کی تقریب شادی عمل میں آئی۔چار ماہ تک حضرت ممدوحہ اپنے مطبخ سے اس جوڑے کا کھانا بھجواتی رہیں۔بستر اور چار پائی کا انتظام بھی انہوں نے کیا۔خواجہ معین الدین صاحب کا بیان ہے کہ بڑی شفقت و محبت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کرتی تھیں کہ طیب النساء کو بیاہ کر میں لائی ہوں وہ میری بہو ہے۔شادی کے چار ماہ بعد حضرت نانا جان میر ناصر نواب صاحب نے دار الضعفاء میں ایک پختہ مکان بنوا دیا۔حضرت اماں جان مقبرہ بہشتی کی طرف تشریف لاتیں تو اس مکان میں بھی قدم رنجہ فرمایا کرتیں اور اظہار شفقت کے لئے کوئی نہ کوئی چھوٹا موٹا کام اپنی منہ بولی بہو سے لے لیا کرتی تھیں۔سیدہ طیب النساء صاحبہ پابند صوم وصلوٰۃ اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے غایت درجہ اخلاص و محبت رکھنے والی خاتون تھیں۔95