تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 202
تاریخ احمدیت۔جلد 27 202 سال 1971ء ۱۹۳۲ء میں احمدی ہوئے جس پر آپ کی زبر دست مخالفت ہوئی۔متواتر پانچ سال تک آپ کی زرعی اراضی کولوگوں نے کاشت کرنا چھوڑ دیا۔جو کاشت کر تا روک دیا جاتا۔گاؤں کے ہر کنوئیں بلکہ باہر سے بھی پانی لانے پر پابندی لگا دی گئی۔ان ایام میں ایک پڑوسن رات اندھیرے میں چپکے سے ایک گھڑا پانی کا ان کے گھر پہنچا دیتی تھی۔اہلیہ محترمہ روٹھ کر میکے چلی گئیں مگر جلد ہی آپ کا نمونہ دیکھ کر بیعت کر لی اور ساری زندگی کمال استقامت سے احمدیت کے ساتھ وابستہ رہیں۔بالکل ان پڑھ تھے لیکن ساری عمر جہاں کہیں رہے الفضل ضرور منگواتے رہے۔پورا اخبار غیر احمدی دوستوں سے سننا آپ کا معمول تھا۔آپ برج انسپکٹر کنگ آرائیاں ضلع جالندھر رہے۔اپنے محکمہ میں بوجہ دیانتداری خصوصی شہرت رکھتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ایک غیر ملکی فرم نے آپ کو سکھر کا نیا پل بنانے کے لئے بلالیا اور کام ختم ہونے پر آپ کو دیانتداری اور فرض شناسی کے اعتراف کے طور پر پانچ سور و پیا انعام اور اعلیٰ کارکردگی کی سند دی۔غریبوں کے ہمدرد اور بلا امتیاز مذہب وملت سبھی کے غمخوار تھے۔دورانِ گفتگو جب حضرت مصلح موعود کا ذکر مبارک آتا تو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتے۔دعوت الی اللہ ان کا شعار تھا۔آپ کی وفات چک نمبر 30 جنوبی سرگودہا میں ہوئی۔92 مریم صاحبہ۔انڈونیشیا وفات:۷ ستمبر ۱۹۷۱ء مولا نا ذینی دہلان صاحب کی زوجہ محترمہ تھیں جو انڈونیشیا کے اولین احمدیوں میں سے تھے۔آپ کے شوہر سات سال تک علوم دینیہ کی تحصیل کے لئے قادیان میں قیام فرمار ہے۔اس لمبے عرصہ کو آپ نے نہایت صبر و شکر اور قربانی کی روح کے ساتھ گزارا۔آپ تہجد گزار تھیں۔فریضہ حج کی بجا آوری کی بھی توفیق پائی۔لجنہ اماءاللہ انڈونیشیا کی سرگرم ممبر تھیں۔قرآن کریم کی تلاوت کا خاص شغف تھا۔ابتدائی عمر میں جماعتی اجتماعات کے مواقع پر مختلف مقابلہ جات میں خصوصی انعامات حاصل کئے۔سفنی ظفر احمد صاحب واقف زندگی مربی انڈو نیشیا آپ ہی کے فرزند اور دین کے سپاہی ہیں۔93 چوہدری محمد عبد اللہ صاحب امیر جماعت کھاریاں وفات : ۱۰ ستمبر ۱۹۷۱ء