تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 201
تاریخ احمدیت۔جلد 27 201 سال 1971ء سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔سرکاری حلقے نہ صرف ان کی دیانتداری کے معترف تھے بلکہ اس اعلیٰ خوبی کی وجہ سے بے حد مداح تھے۔آپ اسسٹنٹ ڈائیریکٹر فوڈ ڈیپارٹمنٹ بھی رہے تھے۔عرصہ ملازمت میں خدمت خلق کا آپ نے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔۱۹۵۳ء کے ہنگاموں کے دوران آپ اپنی ملازمت کے دوران ملتان میں مقیم تھے اور اپنے محلہ میں اکیلے احمدی تھے۔متعددعزیزوں اور دوستوں نے وہاں سے چلے آنے کا مشورہ دیا مگر آپ وہیں ڈٹے رہے اور روزانہ اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہو کر حسب معمول سب لوگوں حتی کہ مخالفوں کے کام بھی خوش اسلوبی سے انجام دیتے رہے۔انہی دنوں ایک رات انتہائی مخالفت کے باعث خطرہ کی رات سمجھی جاتی تھی اللہ تعالیٰ نے ان کے جذبہ خدمت خلق کو قبول کرتے ہوئے غیر احمدی ہمسائیوں کو اس بات پر آمادہ کر دیا کہ وہ آپ کی حفاظت کے لئے نکل کھڑے ہوں۔چنانچہ وہ اپنی بندوقیں لے کر ساری رات آپ کے گھر کا پہرہ دیتے رہے۔آپ سلسلہ کے فدائی اور شیدائی تھے۔سلسلہ کے کارکنوں خصوصاً مربیان کرام کی خاطر و مدارت اور ان کی تواضع میں ہمیشہ کوشاں رہے اور یہی روح اپنی اولاد میں بھی اجاگر کی۔ہر ایک سے بشاشت کے ساتھ پیش آنا اور محض رضاء الہی کی خاطرحتی المقدور ان کے کام کرنا آپ کی زندگی کا واضح اصول تھا جس پر آپ پوری عمر سختی سے کاربند رہے۔آپ نے ۱۵ جولائی کو ساہیوال میں بھمر ۷ ۵ سال وفات پائی۔آپ کا جنازہ ربوہ لا یا گیا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے از راہ شفقت آپ کی نماز جنازہ پڑھائی جس میں کثیر تعداد میں احباب شامل ہوئے۔بعد ازاں حضور کی منظوری سے قبرستان شہداء میں تدفین عمل میں آئی۔90 نور بی صاحبہ آف ماریشس وفات : ۳/ اگست ۱۹۷۱ء نور بی صاحبہ، عبدالستار صاحب ماریشس کی اہلیہ اور احمد شمشیر سوکیہ صاحب مربی سلسلہ کی والدہ تھیں۔آپ بہت مخلص، دیندار اور قربانی کرنے والی خاتون تھیں۔حج بیت اللہ سے بھی مشرف تھیں اور قادیان ور بوہ کی زیارت سے بھی مشرف ہو چکی تھیں۔91 چوہدری یوسف علی صاحب وفات: ۲۳ /اگست ۱۹۷۱ء