تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 200
تاریخ احمدیت۔جلد 27 200 سال 1971ء صفیہ بانو صاحبہ حضرت منشی محمد رحیم الدین صاحب متوطن سوباره ضلع بجنور ( یکی از ۳۱۳ اصحاب ) کی صاحبزادی اور حضرت محمد یامین صاحب تاجر کتب آف قادیان کی دوسری اہلیہ تھیں۔آپ پیدائشی احمدی تھیں۔فرشتہ صفت مخلص صحابی کی بیٹی ہونے کے باعث اپنے والد محترم کے رنگ میں ہی رنگین ہو گئیں۔آپ صوم وصلوٰۃ کی خود بھی بہت پابند تھیں اور بچوں کو بھی ہمیشہ تلقین فرماتی رہتی تھیں۔سلسلہ عالیہ احمدیہ کے ساتھ خاص انس اور محبت رکھتی تھیں۔بڑی عابدہ زاہدہ اور مخلص خاتون تھیں۔چندے وغیرہ بھی پابندی سے ادا فرماتی تھیں۔۱۹۲۳ء میں آپ نے وصیت کی اور جو حصہ جائیداد بنتا تھا وہ تمام کا تمام ادا کر دیا۔مکرم حافظ مبین الحق شمس صاحب یا مین بکڈ پور بوہ تحریر فرماتے ہیں کہ بچوں کی تربیت کا خاص طور سے خیال رکھتی تھیں۔میرے ساتھ ان کا ایسا برتاؤ تھا کہ مجھے اتنا احساس بھی پیدا نہیں ہونے دیا کہ وہ میری دوسری والدہ ہیں۔شفقت محبت اور ہمدردی سے ان کا ہمیشہ برتاؤ رہا۔اور تمام بہن بھائیوں میں کسی قسم کی تفریق پیدا ہونے نہیں دی۔میں ہمیشہ ان کو اپنی حقیقی والدہ خیال کرتا رہا۔محترمہ والدہ صاحبہ کو حضرت اماں جان سے خاص محبت اور انس تھا۔حضرت اماں جان قادیان میں جب مقبرہ بہشتی تشریف لے جاتیں تو آپ کو گھر سے اپنے ہمراہ لے لیا کرتیں۔ہمارا مکان عقب انگر خانه مسیح موعود مقبرہ بہشتی روڈ پر واقع تھا۔واپسی پر ہمارے ہاں کچھ دیر قیام فرماتیں۔اور پانی وغیرہ پی کر پھر اپنے گھر تشریف لے جاتیں۔حضرت اماں جان کا عموماً یہ معمول رہا۔کسی وقت اگر حضرت اماں جان کو جانے کی جلدی ہوتی تو اپنی سوٹی سے دروازہ کھٹکھٹا کر چلی جاتیں جس سے محترمہ والدہ صاحبہ مرحومہ یہ سمجھ لیتیں کہ اماں جان مقبرہ بہشتی جا رہی ہیں تو وہ بھی فوراً برقع پہن کر اور تیزی سے چل کر ان سے راستہ میں ہی مل جاتیں۔بہر حال حضرت اماں جان سے محبت انتہاء تک پہنچی ہوئی تھی۔کئی مرتبہ حضرت اماں جان نے اپنے رنگین دو پٹے و دیگر پار چات بطور تبرک عطا فرمائے۔آپ نے ۲۰ جون ۱۹۷۱ء کو وفات پائی۔89 چوہدری نورالدین جہانگیر صاحب وفات: ۱۵ جولائی ۱۹۷۱ء محترم چوہدری نورالدین جہانگیر صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت چوہدری غلام حسین صاحب (انسپکٹر آف سکولز) کے صاحبزادے اور صدر پاکستان کے سائنسی مشیر اور مایہ ناز