تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 186
تاریخ احمدیت۔جلد 27 186 سال 1971ء بیاہ شادی کے موقع پر غرباء کی مالی مدد بھی کرتے اور اپنی ضمانت پر زیور اور شادی کا دیگر سامان بھی لے کر دیتے۔ہماری ۱٫۹ یکڑ اراضی پر کیکر کے درخت اکھاڑنے کے لئے مجھے حکم دیا کہ ٹھٹھی ، عیسائیوں کی آبادی میں جاؤ اور میرا پیغام دے آؤ کہ کل صبح سب عیسائی جو کام کر سکیں ہمارے چاہ پر پہنچ جائیں۔میں نے عرض کی کہ دھان کی کٹائی کے دن ہیں۔اگر وہ اپنے زمینداروں کی فصل کی برداشت یعنی کٹائی پر نہ گئے تو وہ مقررہ اجرت سے محروم ہو جائیں گے۔تو آپ نے فرمایا کہ پیغام دے آئیں اگر کوئی مجبور نہ آسکا تو میں اس سے ناراض نہیں ہوں گا۔میں نے آپ کے حکم کی تعمیل کی۔اگلے دن نماز فجر کے بعد فرمایا کہ گھوڑی پر سوار ہو کر دیکھ آؤ کتنے آدمی کیکر اکھاڑنے کیلئے گئے ہیں تا کہ ان کے کھانے کا انتظام کیا جائے۔میں نے جا کر دیکھا کہ ٹھیٹھی کے جتنے آدمی کام کرنے کے قابل تھے سب کیکر اکھاڑ رہے تھے۔میرے قریب ترین نوجوان رحمت مسیح اور سندر مسیح تھا۔میں نے اس سے دریافت کیا کہ کیا تمہاری دوسرے زمینداروں کی سیپ نہیں ؟ اس نے جواب دیا کہ ہم تین بھائی ہیں آٹھ زمینداروں کی سیپ کرتے ہیں لیکن اگر حاجی صاحب ( میرے والد صاحب) کا کام ہوگا تو ہم پہلے وہ کریں گے اور دوسرے لوگوں کا بعد میں۔میں نے وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا کہ حاجی صاحب ساری ٹھیٹھی کے مکینوں کی اتنی مدد کرتے ہیں کہ پورے گاؤں کے زمیندار بھی نہیں کرتے۔غلہ کی، مال کے لئے چارہ کی لکڑی کی ، پیسے کی ضرورت ہو تو حاجی صاحب ضروریات پوری کرتے ہیں۔اس نے اپنی ذات سے متعلق دو واقعات بیان کئے۔ا۔ایک نیم حکیم نے مجھے ٹیکا لگا دیا اور مجھے جان کے لالے پڑ گئے۔حاجی صاحب کو میری حالت کا علم ہوا تو اپنے ایک نوکر کے ہاتھ ایک سو روپے اور اپنی گھوڑی بدوملہی ڈاکٹر کے پاس جانے کے لئے بھیج دی۔دوسرے دن وہ خود بھی میری بیمار پرسی کے لئے آئے اور ڈاکٹر کو میرے علاج کے متعلق تاکید کی۔قرب و جوار کے افسروں سے حاجی صاحب کے بہت اچھے تعلقات تھے۔ہفتہ عشرہ میں میں صحت یاب ہو کر واپس آیا۔حاجی صاحب نے مجھ سے سورو پی کا بھی مطالبہ نہیں کیا۔۲۔میرے پاس جوتی نہیں تھی میں حاجی صاحب کے پاس گیا اور عرض کی کہ مجھے کوئی پرانی جوتی دیں۔حاجی صاحب حویلی میں چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے۔فرمایا کہ یہ جوتی جو چار پائی کے پاس پڑی ہے پہن کر دیکھو۔میں نے کہا یہ تو نئی جوتی ہے آپ نے مجھے سختی سے کہا کہ پہن لو اور میں