تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 185
تاریخ احمدیت۔جلد 27 185 سال 1971ء خدا گواہ ہے کہ ہم دونوں بھائیوں نے جان بچانے کی کوئی کوشش نہیں کی اور خطرناک سے خطرناک ڈیوٹی ادا کی جو ہمارے سپرد کی گئی۔ہم نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اپنے والد صاحب کی نصیحت اور خواہش کی تعمیل میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔میرے سپر د جو فرائض تھے ہرلحہ گرفتاری اور موت کا امکان تھا لیکن افسوس کہ شہادت جیسی شاندار نعمت نہ مل سکی۔شہادت کی خواہش اور والہانہ رنگ میں حفاظت مرکز سے متعلق فرائض کی بجا آوری کے صلہ میں اللہ تعالیٰ نے جو انعامات ہمیں دیئے ان کا مختصر ذکر ذیل میں درج ہے۔ا۔اچھی صحت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ہمیں لمبی عمر میں عطا فرمائیں۔۲۔لاتعداد دینی و دنیوی نعمتوں سے اللہ تعالیٰ نے سرفراز فرمایا۔۳۔تینوں بھائیوں کو خدمت دین کی توفیق ملی۔خاکسار محمد اسحاق ساڑھے تین سال ہانگ کانگ اور چین میں بطور مربی رہا۔زبانی اور اشاعت لٹریچر کے ذریعہ خدمت کے مواقع ملے۔جنگ عظیم کی ہولنا کی اور انگریز حکومت کی کوتاہ نظری کی وجہ سے ہانگ کانگ سے گرفتار ہو کر ہندوستان لا کر جیل میں قید اور بعد میں اپنے گاؤں میں عرصہ جنگ تک نظر بند رکھا گیا۔عثمان غنی جماعت احمد یہ چندر کے منگولے میں صدر اور سیکرٹری مال کے طور پر خدمت دین کرتا رہا۔بشیر احمد نے مع اپنی بیگم بشری بشیر ملا زمت سے پنشن کے بعد مغربی افریقہ میں آنریری مربی کے طور پر خدمت دین کی اور وہاں ایک شاندار مسجد بھی تعمیر کرائی جس میں خود بھی ایک لاکھ روپیہ بڑی خوشی سے ادا کئے۔حضرت والد صاحب میں خدمت خلق اور غرباء کی مدد کا جذ بہ بہت زیادہ تھا۔دور دور سے زمیندارہ الجھنوں سے متعلق لوگ آپ کے مشورہ اور مدد کے لئے آتے اور ان کے مسائل کا حل اور مہمان نوازی کر کے بہت خوش ہوتے۔عرصہ ۲۸ سال تک سیشن جج سیالکوٹ کی عدالت میں اسیسر رہے اور نہایت دیانتداری سے قتل کے مقدمات میں رائے دیتے۔سیشن جج آپ کے مشوروں کی بہت تعریف اور قدر کرتے۔۲۸ سال بعد آپ کی شنوائی کم ہوگئی اور آپ نے فراغت حاصل کر لی۔غریب پروری اور مہمان نوازی ہماری مسجد بڑی سڑک سے ملحق ہے۔پیدل مسافر عموم رات اس مسجد میں گزارتے تھے۔آپ سب مسافروں کی فراخدلی سے مہمان نوازی کرتے۔