تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 184
تاریخ احمدیت۔جلد 27 184 سال 1971ء مشاورت اور دیگر جماعتی اجتماعات پر اکٹھے دیکھا ہے۔ایک دفعہ میرے والد صاحب گھوڑی سے گر کر زخمی ہو گئے۔میں نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی خدمت میں دعا کے لئے لکھا تو آپ نے جواباً تحریر فرمایا میں آپ کے والد صاحب کو خوب اچھی طرح جانتا ہوں بڑے مخلص اور محبت کرنے والے بزرگ ہیں۔اور آپ کی صحت کے لئے دعا بھی کی۔اس تحریر کی بناء پر والد صاحب کی قبر کے کتبے پر دفتر بہشتی مقبرہ کی اجازت سے یہ کندہ ہے۔حاجی صاحب بہت مخلص اور محبت کرنے والے بزرگ تھے۔تقسیم ہند کے وقت ایک یادگار خط تاریخ احمدیت جلد یاز دہم صفحہ ۱۳۹ کے ایک خط کی نقل درج ذیل ہے۔چوہدری حاجی اللہ بخش صاحب چندر کے منگولے ضلع سیالکوٹ نے اپنے بیٹوں مکرم چوہدری محمد اسحاق صاحب مربی چین اور مکرم بشیر احمد صاحب کو حسب ذیل خط لکھا۔”میرے پیارے لخت جگر محمد اسحاق و بشیر احمد اللہ تعالیٰ ہر آن تم دونوں کا حافظ و ناصر ہو۔آمین السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ مدت سے تمہارا کوئی خط نہیں ملا۔آج ۲۴ اکتوبر ۷ ۱۹۴ء کوعزیز محمد عبداللہ صاحب کیپٹن ٹرک لے کر یہاں اپنی بیوی کو لینے آئے ان سے دارالامان کے حالات معلوم ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ پولیس نے تلاشیاں لے کر پہلے اہل قادیان کو نہتا کیا اور پھر سکھوں نے حملہ کیا اور پولیس اور ملٹری نے ہمارے احمدیوں کا قتل عام کیا اور دوسو سے اوپر احمدی شہید ہو کر جنت میں جا پہنچے۔سنا ہے حملہ دار الرحمت پر ہوا اور تم دونوں بھی دارالرحمت میں تھے۔اگر تم شہید ہو گئے ہو تو اپنی مراد کو پہنچ گئے ہو۔اس صورت میں میں عثمان غنی ( تیسرے بیٹے۔ناقل ) کو بھی جلدی قادیان بھیج دوں گا۔اگر تم زندہ ہو تو مجھے یقین ہے کہ تم نے کسی قربانی سے دریغ نہ کیا ہوگا۔تم نے احمدی باپ سے پرورش پائی ہے اور احمدی ماں کا دودھ پیا ہوا ہے۔دارالامان سے پیارا ہمیں اور کچھ نہیں۔شعائر اللہ ہمارے پاس ہیں اور میری تمہیں نصیحت ہے کہ تمہارے جیتے جی شعائر اللہ تک دشمن نہ آئے ہمیں اللہ تعالیٰ نے بہت کچھ دے رکھا ہے اور تم قطعاً پرواہ نہ کرو کہ تمہارے بعد ہمارا کیا بنے گا۔جب سے دارالامان پر حملہ کا سنا ہے سخت بیقراری اور بے چینی ہے اور میرا تو پیشہ ہی رونا ہو گیا ہے“۔67