تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 161
تاریخ احمدیت۔جلد 27 161 سال 1971ء جلدی طے کرلیں گے مگر میں بھی آخر آج نہیں کل یا بدیر اپنا راستہ طے کر کے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرلوں گا۔میں نے جواب دیا کہ جو چل رہا ہو اس کے کبھی پہنچنے کی امید ہوسکتی ہے مگر جو چلنے سے رہ گیا اور بیٹھ گیا وہ کس طرح منزل مقصود پر پہنچ سکتا ہے۔میں نے ہندو مذہب جو قدامت میں سب مذاہب سے آگے ہے پیش کیا کہ اس کے خاص و عام دنیا پر گر گئے اور منزل مقصود کو چھوڑ بیٹھے۔ایسے ہی یہودی، پارسی وغیرہ وغیرہ اپنی اعلی تعلیم کو چھوڑ چکے اور منزل مقصود سے دور ہو گئے۔اب عیسائی مذہب کو لیں کیا وہ حضرت عیسی علیہ السلام کی راہ کی پیروی کر رہے ہیں۔لوتھر (اصل پولوس) نے کہا ہے کہ شریعت لعنت ہے۔اب شریعت تو ایک راستہ ہے اور اس کو لعنت سمجھ کر انسان اپنی منزل مقصود سے بہت دور جا پڑتا ہے۔غرضیکہ بہت بحث کے بعد اس کو تسلیم کرنا پڑا کہ اسلام سچا مذہب ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث کئے گئے ہیں۔اس نے کہا کہ میں صدق دل سے کلمہ پڑھتا ہوں۔حضرت محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اور حضرت مسیح علیہ السلام پر ایمان لاتا ہوں آج کے دن میرے ایمان پر آپ گواہ بنیں۔مگر ابھی میرے متعلق کسی کے پاس اظہار نہ کرنا یہ تاکید ہے۔الحمد للہ کہ میری ناچیز محنت کا مجھے پھل مل گیا۔ثم الحمد للہ اس کے بعد میں کرنیل ریگھ اے سی۔آر۔ای (اسسٹنٹ کمانڈنگ رائل انجینئر ) نوشہرہ ایریا کے پاس گیا اور دریافت کیا کہ میں نے آپ کو لٹریچر بھیجا تھا آپ نے غالباً پڑھا ہوگا۔اس نے کہا کہ میں پڑھ رہا ہوں۔کچھ پمفلٹ لا کر مجھے دیئے۔فرمایا کہ میں نے پونا میں طبع کروائے تھے آپ مطالعہ کریں۔میں نے پمفلٹ لے لئے۔میری اور کرنل صاحب کی خط و کتابت ان کے لنڈن پہنچنے تک جاری رہی وہ میری تنقید میں بڑی دلچسپی لیتے تھے۔ایک دن ہمارے کنٹونمنٹ بورڈ کے ایگزیکٹو آفیسر کپتان واریٹ صاحب مجھے ملے اور فرمانے لگے کہ آپ جی۔اوسی نوشہرہ برگیڈ کے پاس گئے ہیں انہوں نے مجھے ہدایت کی ہے کہ احمد یہ جماعت کو مسجد بنانے کے لئے زمین دی جائے۔معاملہ یوں ہوا کہ عید الفطر کے دن میں کپتان فشر صاحب کے پاس گیا انہوں نے عید مبارک دی اور فرمایا کہ نماز کہاں پڑھی ہے۔میں نے کہا کہ کمپنی باغ میں نماز پڑھی ہے۔کہنے لگے کہ کیا آپ کی کوئی مسجد یا کلب نہیں ہے۔میں نے کہا کہ غیر احمدی ہمیں اپنی مساجد میں نماز نہیں پڑھنے دیتے۔ہم خدا کی زمین پر جہاں جگہ ملے نماز پڑھ لیتے ہیں۔انہوں نے جنرل آفیسر کمانڈنگ نوشہرہ برگیڈ سے ملاقات کی اور کہا کہ نوشہرہ چھاؤنی میں احمد یہ جماعت ہے جو پرامن جماعت ہے انہیں مسجد بنانے