تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 159 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 159

تاریخ احمدیت۔جلد 27 159 سال 1971ء کر ہمارے بورڈنگ میں آئیں۔دعوت رات کے وقت تھی۔کئی لوگوں نے ہمیں منع کیا کہ رات کے وقت نہیں جانا چاہیے کیونکہ پٹھانوں کی قوم اعتبار کے لائق نہیں۔ممکن ہے کہ اپنے مولویوں کی خفت مٹانے کے لئے کوئی نقصان پہنچا ئیں چنانچہ میں ایک اور دوست مولوی صاحب کو ہمراہ لے کر رات کے وقت چھاؤنی سے ایک میل باہر دعوت پر چلا گیا اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کے سپرد کرتے ہوئے روانگی سے قبل خوب دعا کر لی۔ہم دعوت سے فارغ ہو کر بازار میں پھرتے رہے۔چند مولوی صاحبان بھی ملے اور بخیریت رات کے گیارہ بجے کے قریب واپس آگئے۔اسی نوشہرہ شہر کے ایک دوست سید ایوب شاہ صاحب بی اے نے بیعت کی۔جو نہایت مخلص تھے اور تھوڑے عرصہ میں انہوں نے اخلاص میں نہایت ترقی کی۔ایک ان کے پھوپھی زاد بھائی محمد علی تھے جن کو انہوں نے بڑی تبلیغ کی تھی مگر وہ احمدی سلسلہ میں ان کی تبلیغ سے داخل نہ ہوئے۔یہ وہی محمد علی ( نوشہروی ) ہیں جو مستریوں کے مقدمہ میں گورداسپور میں پھانسی پاگئے تھے 85۔اللہ تعالیٰ ان کی روح کو اپنے قرب و جوار میں جگہ دے۔ایک رات دسمبر کے دنوں میں رات کے ایک بجے جبکہ بجلی چمک رہی تھی اور سخت اندھیری رات تھی بوندا باندی بھی ہو رہی تھی محمد علی صاحب مرحوم و مغفور میرے مکان پر تشریف لائے۔فرمانے لگے کہ میاں ایوب شاہ صاحب نے بھیجا ہے ان کی بیوی سخت بیمار ہے اس کا آپ نے علاج کرنا ہے۔میں نے بیماری کا پوچھا مگر وہ نہ بتلا سکے۔میں نے کہا کہ آپ دریائے کابل کے کنارے پل کے پاس فلاں جگہ بیٹھ کر میرا انتظار کریں میں کپڑے پہن کر ابھی آتا ہوں۔چنانچہ جب میں وہاں پہنچا تو محمد علی صاحب با وجود تلاش کرنے کے نہ ملے۔راستہ خطر ناک تھا۔پٹھانوں کے ملک میں چھاؤنی سے باہر ایک قدم رکھنا بھی خطر ناک تھا۔چنانچہ طبیعت نے پس و پیش کیا مگر اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہو کر دعا کر کے میں نے پل پار کر لیا اور اصل راستہ چھوڑ کر کھیتوں میں سے ہوتا ہوا، بھیگتا ہوا میاں ایوب شاہ صاحب کے گھر پہنچ گیا۔معلوم ہوا کہ ابارشن ہو گیا تھا اور بلیڈنگ بند نہیں ہوتی۔میرے پاس اس وقت تو کوئی دوا نہیں تھی میں نے کہا کہ کہیں سے افیم پیدا کریں۔انہوں نے کہا کہ چرس تو عام مل جاتا ہے مگر افیم کا ملنا آسان نہیں۔تلاش کرنے پر تھوڑی مقدار افیم کی مل گئی۔ایک گرین افیم دینے سے بلیڈنگ میں کچھ کمی واقع ہوگئی۔ایک گرین صبح دینے میں بلیڈنگ سٹاپ ہو گئی۔محمد علی صاحب مرحوم و مغفور بھی آگئے۔معذرت کی کہ میں ایک جگہ سو گیا تھا اس لئے مل نہ سکا۔اس کے دوسرے دن انہوں نے بیعت کا خط بھیج دیا۔میاں ایوب شاہ صاحب نے پوچھا کہ میری تبلیغ