تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 158 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 158

تاریخ احمدیت۔جلد 27 158 سال 1971ء فارغ ہو گیا۔گومحمد مستری صاحب کی ملازمت میں علاوہ تنخواہ کے معقول رقم کمیشن کی بھی ملتی تھی۔مگر میں نے نوشہرہ میں رہ کر سلسلہ کی خدمت کو ترجیح دی اور تھوڑی نوکری کی قلیل تنخواہ قبول کر لی۔اس آسامی پر رہ کر مجھے عام پبلک اور ملٹری افسروں سے بھی واسطہ پڑتا تھا۔اس لئے مجھے تبلیغ کے لئے اچھا موقع میسر آ گیا۔وار (War) کے زمانہ میں مجھے حضرت شیخ مشتاق حسین صاحب مرحوم و مغفور فٹنگ کنٹر کٹر (والد ماجد شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت احمد یہ لا ہور و حج ہائیکورٹ لاہور ) اور مولوی فخر الدین صاحب ( مولانا محمد یعقوب صاحب طاہر انچارج شعبہ زود نویسی کے والد بزرگوار ) مرحوم و مغفور یہ دو بابرکت وجو مل گئے۔جن کی آمد پر درس تدریس کا سلسلہ جاری ہو گیا اور نماز با جماعت با قاعدگی سے ادا ہونے لگی۔اس کے بعد مکرم محترم مرزا غلام حیدر صاحب پلیڈر تشریف لے آئے جن کے آنے پر جماعت کا وقار بڑھ گیا۔تھوڑے عرصہ کے بعد خان بہا در دلاور خان صاحب اسسٹنٹ کمشنر ہو کر یہاں تعینات ہوئے۔کئی ایک ڈاکٹر صاحبان بھی تشریف لے آئے۔خصوصاً ڈاکٹر فیروز دین صاحب مرحوم و مغفور، ڈاکٹر محمد رمضان صاحب، صوبیدار میجر ڈاکٹر ظہور حسین صاحب گجرات کے رہنے والے، غرضیکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں ایک خاصی رونق پیدا ہوگئی۔ہمارا مرکزی بجٹ ہزاروں تک جا پہنچا۔مقامی اخراجات کے لئے بھی ہم ایک پیسہ فی روپیہ وصول کرتے تھے جو مقامی خرچ کے علاوہ ٹریکٹ وغیرہ منگوانے کے بھی کام آتا تھا۔ہماری انجمن کے قیام سے قبل صوبہ سرحد میں کبھی کسی جماعت کا پبلک طور پر جلسہ نہیں ہوا تھا۔چنانچہ ۱۹۲۰ء میں لندن مسجد کے چندہ کی وصولی کے لئے ایک وفد بہ سر براہی سید بشارت احمد صاحب وکیل آف حیدر آباد دکن اور ان کے بڑے بھائی سید سعادت احمد صاحب تشریف لائے۔ان کی آمد پر ہم نے ایک جلسہ تجویز کیا اور عام منادی کرا دی۔یہ صوبہ سرحد میں پہلا جلسہ تھا جو ہم نے کیا۔لوگ کثرت سے جمع ہو گئے۔مرکز سے بھی کئی علماء اس وفد کے ساتھ شامل تھے۔تقاریر کا بہت اچھا اثر ہوا۔لوگ احمد یہ جماعت کے مداح ہو گئے اور چند ایک نے بیعت بھی کی۔اس پر مخالفت کا جوش پیدا ہو گیا اور چند غیر احمدیوں کی طرف سے ہمیں مباحثہ اور مناظرہ کا چیلنج دیا گیا۔ہماری طرف سے مولوی ظہور حسین فاضل اکیلے تھے اور فریق مخالف کے پاس کئی مولوی اور سجادہ نشین تھے۔ختم نبوت موضوع مباحثہ تھا۔غیر احمدی مولوی صاحب کے مقابل عاجز آگئے اور لوگوں پر کافی اثر ہوا۔اگلے دن نوشہرہ کے چند طلباء نے ہمیں دعوت دی کہ مولوی صاحب کو ساتھ لے