تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 157
تاریخ احمدیت۔جلد 27 157 سال 1971ء پہنچا تو اپنے آپ کو اکیلا پایا۔کہاں سیالکوٹ کی جماعت اور حضرت میر حامد شاہ صاحب کی صحبت اور کہاں نوشہرہ چھاؤنی؟ میں نے دعا کی کہ الہی مومن تو اکیلا نہیں رہتا یا تو میرے ایمان میں نقص ہے یا اس جگہ افراد جماعت ہوں گے مگر مجھے علم نہیں۔الہی تو مجھے اکیلا نہ رکھ۔اگر یہاں افراد جماعت ہیں تو مجھے علم دے تاکہ یہاں جماعت پیدا ہو جائے۔اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول فرمالی اور مجھے توفیق دی کہ نوشہرہ چھاؤنی کے متفرق احمدی احباب معلوم کر کے ایک جماعت قائم کروں۔سو جو بندہ یا بندہ کے بقول میں نے چل پھر کر پندرہ کس احمدی احباب معلوم کر کے ایک جمعہ پر سب احباب کو اکٹھا کیا اور جماعت احمد یہ نوشہرہ چھاؤنی کی بنیاد ڈالی۔نوشہرہ چھاؤنی کے ڈاک بنگلہ کے خانساماں صاحب شیخ عبدالرحمن صاحب جماعت کے پریذیڈنٹ مقرر ہوئے اور خاکسار کو سیکرٹری اور محصل مقرر کیا گیا۔ڈاک بنگلہ میں ہی نماز جمعہ کا انتظام کیا گیا۔باقاعدہ مرکز سے خط و کتابت کر کے رسید بکیں اور دیگر لٹریچر وغیرہ حاصل کر لیا گیا۔چونکہ صرف خاکسار ہی ایک آزاد پیشہ تھا اس لئے ہفتہ میں ایک دو دفعہ احباب سے ملاقات ہو جاتی چندہ کی وصولی بھی ہو جاتی اور کام جاری ہو گیا۔اس سے پہلے مکرم محترم قاضی محمد یوسف صاحب پشاور سے آکر معلوم احمدی احباب سے چندہ لے جایا کرتے تھے۔اب ہمارا چندہ پشاور جانا بند ہو گیا اور براہ راست مرکز کے ساتھ وابستہ ہو گئے۔پہلی گریٹ وار شروع ہو چکی تھی۔رجمنٹس کے ادل بدل سے احمدی احباب کی مزید آمد سے جماعت میں اضافہ ہو گیا اور متفقہ طور پر حضرت شیخ احمد اللہ صاحب مرحوم و مغفور جماعت کے پریذیڈنٹ منتخب ہوئے اور انجمن کے لئے ایک بالا خانہ کرایہ پر لے لیا گیا۔(حضرت قاضی محمد یوسف صاحب امیر جماعت احمدیہ سرحد کی کتاب تاریخ احمد یہ سرحد مطبوعہ ۱۹۵۹ء صفحہ ۲۶۵-۲۶۶ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ (حضرت شیخ احمداللہ ) تبلیغ احمدیت کے دلدادہ تھے نوشہرہ کے بعد آپ بمبئی جا کر ایک کمیٹی کے ایجنٹ مقرر ہوئے اور کمپنی کے خرچ سے لندن پہنچ گئے۔اپنی انگریزی ٹائپ مشین بھی ساتھ لے گئے اور اشاعت دین کا کام زور وشور سے شروع کر دیا۔ہائیڈ پارک میں بھی حق کی آواز بلند کرتے رہے کئی افراد ان کے ذریعہ اسلام میں داخل ہوئے) شیخ صاحب مرحوم و مغفور نے مجھے مستری صاحب کی ملازمت میں لکھنؤ جانے سے روک لیا اور کنٹونمنٹ کمیٹی کے دفتر میں ٹیکس کلکٹر کی آسامی پر مجھے تعینات کروا دیا جہاں وہ خود ہیڈ کلرک تھے۔چنانچہ تمبر ۱۹۱۴ ء سے میں وہاں کام کرنے لگ گیا اور مستری صاحب مرحوم و مغفور کی ملازمت سے