تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 156
تاریخ احمدیت۔جلد 27 156 سال 1971ء ملازمت کا سلسلہ بن گیا۔حضرت شاہ صاحب کے جس قدر احسانات مجھ پر ہیں ان کا میں شمار نہیں کر سکتا۔میرے ایمان اور ایقان کی ترقی ان کے طفیل ہوئی۔اور آپ کی تحریک سے میری بیوی نے بھی بیعت کر لی۔۱۹۱۱ ء تک میں حضرت ڈاکٹر صاحب کے پاس رہا اس کے بعد مجھے سیالکوٹ تبدیل کر دیا گیا جہاں میں نے بہت سے فیوض حضرت میر حامد شاہ صاحب کی برکت سے حاصل کئے۔سیالکوٹ سول ہسپتال سے مجھے پلیک ڈیوٹی پر لگایا گیا جس پر میں نے استعفی دے دیا۔ازاں بعد مجھے سیالکوٹ کے ایک احمدی تاجر چرم اور مولوی مبارک علی صاحب مرحوم کے داماد کی ملازمت میں رہنے کا موقع ملا۔اس کے بعد ۱۹۱۳ ء کی آخری ششماہی میں میں کپڑا بیچنے والی ایک کمپنی میں ملازم ہو گیا اور پٹیالہ شہر میں رہائش کر لی۔جمعہ کی نماز کے لئے احمدیہ مسجد ڈھک بازار میں گیا جہاں حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب سے ملاقات ہوئی آپ راجند ہسپتال میں کام کرتے تھے۔حضرت ڈاکٹر صاحب کی تحریک پر میں فروختگی پارچہ سے فارغ ہو گیا اور ڈھائی سوروپے کی ادویہ لاہور پہنچ کر بیلی رام کی دکان سے خرید لا یا اور پٹیالہ میں میڈیکل ہال کھول کر کام شروع کر دیا۔مجھے جماعت میں اسسٹنٹ سیکرٹری بنا دیا گیا۔۱۳ مارچ ۱۹۱۴ ء کو حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کی وفات ہو گئی۔جماعت احمد یہ پٹیالہ نے متفقہ طور پر حضرت مولوی محمود الحسن خاں صاحب مدرس ( حضرت ماسٹر محمد حسن احسان صاحب دہلوی کے والد ماجد اور مسعود احمد خاں صاحب دہلوی سابق ایڈیٹر الفضل ربوہ وانصار اللہ ربوہ کے دادا) اور خاکسار کو قادیان دار الامان بھیجا کہ جس بزرگ کا انتخاب ہو تمام جماعت کی طرف سے بیعت کر آئیں چنانچہ ہم دونوں نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے دست مبارک پر جماعت کی طرف سے بیعت کی اور چند یوم قادیان میں رہ کر واپس پٹیالہ پہنچ گئے۔اس کے بعد حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب کہیں تبدیل ہو گئے اور خاکسار سیالکوٹ آکر مستری نظام الدین صاحب مرحوم کی سپورٹس کی فرم میں ملازم ہو گیا۔مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ خصوصاً چھاؤنیوں میں ، گورہ فوجوں میں یہ کاروبار کس طرح چلایا جاتا ہے؟ میں نے بہت دعائیں کیں۔تھوڑے دنوں میں مجھے اس کاروبار پر کافی عبور حاصل ہو گیا اور مکرم مستری صاحب نے میرا امتحان لے کر اپنی دکان ڈینی گرے واقع نوشہرہ چھاؤنی صوبہ سرحد بھیج دیا۔میں نے تین ماہ میں وہ منافع دیا جو وہ ایک سال میں بھی حاصل نہیں کر سکتے تھے۔میں فروختگی کی رقم بنک میں جمع کراتارہا اور مئی، جون، جولائی ۱۹۱۴ ء کی سہ ماہی رپورٹ انہیں سیالکوٹ ارسال کر دی۔وہ بہت خوش ہوئے۔میں جب شروع مئی میں نوشہرہ چھاؤنی