تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 155 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 155

تاریخ احمدیت۔جلد 27 155 سال 1971ء کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔اس بزرگ نے مجھے شاباش کے طور پر میری پیٹھ پر تین دفعہ تھپکی دی۔اس خواب کے بعد مجھے ڈیرہ غازی خان کے ایک سکول کے ایک احمدی مدرس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک کتاب (غالباً نشانِ آسمانی) پڑھنے کے لئے دی۔اس کتاب میں اپنے دعویٰ کے متعلق ایک طریق استخارہ تحریر فرمایا تھا۔یہ ارشاد عالی پڑھ کر میں لرز گیا اور میں نے مصمم ارادہ کر لیا کہ اس ملا زمت سے مستعفی ہو کر میں ضرور استخارہ کروں گا۔کیونکہ ملازمت سے مجھے ناجائز آمد ہوتی تھی۔چنانچہ میں موقعہ کا منتظر رہا اور ۱۹۰۷ء کی ابتدائی سہ ماہی میں مستعفی ہو گیا اور اپنے تایا صاحب مرحوم کے پاس گوجرہ ضلع لائلپور چلا گیا۔یہیں میں نے استخارہ کیا۔دعائے استخارہ کے چوتھے روز نماز فجر کے بعد مجھے کشف میں سیڑھیاں نظر آئیں ہر سیڑھی پر ایک بورڈ نصب تھا۔آخری سیڑھی کے درمیان جو وسیع و عریض بورڈ آویزاں تھا جس کی زمین سرخ تھی اور اس پر جلی رنگ میں لکھا تھا مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مهدی مسعود۔میرے تایا صاحب مرحوم اہل حدیث تھے جب ان سے میں نے یہ بیان کیا تو کہنے لگے کہ یہ شیطانی وساوس ہیں۔میں نے عرض کیا کہ میں دعا تو اللہ تعالیٰ سے کر رہا تھا۔شیطان کا بارگاہ عالی میں کیا دخل۔غرضیکہ وہ اس نعمت سے محروم رہے اور مجھے یہ سعادت حاصل ہوگئی۔میری بیوی میرے سسرال میں رعیہ ضلع سیالکوٹ میں تھی۔جہاں میرے محسن حضرت ڈاکٹر سید عبدالستارشاه صاحب سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر تھے۔میں رعیہ پہنچ گیا۔احمدیت تو دل میں گھر کر چکی تھی ان سے ملاقات ہوئی۔ان کے ساتھ نمازیں پڑھتے رہے وہ نماز کے بعد مثنوی مولانا روم کا درس دیا کرتے تھے اور قرآن شریف کے معارف بھی بیان فرمایا کرتے تھے۔میں درس میں شامل رہا ان کی صحبت میں رہ کر احمدیت سے متعلق وسیع علم حاصل ہوا۔اور ستمبر ۱۹۰۷ ء میں ان کے ہمراہ قادیان پہنچا۔اس وقت عصر کی نماز ہو رہی تھی۔۱۹۰۳ء میں ملازمت نہر کے دوران میں نے جو خواب دیکھا تھا وہ پورا ہو گیا کیونکہ وہی حلیہ اور لباس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تھا۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔ہم قریباً پندرہ روز قادیان میں رہے اس کے بعد جنوری ۱۹۰۸ ء میں بھی نیاز حاصل کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔اس کے بعد لاہور میں سلسلہ عالیہ احمدیہ کے محترم بزرگ حضرت میاں معراج الدین صاحب عمر کے ہاں رہ کر ایمان اور عرفان میں اور ترقی ہوگئی۔۱۹۰۹ء میں مجھے پھر رعیہ آنا پڑا گویا حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی کشش کھینچ لائی۔حضرت شاہ صاحب نے اپنی ڈسپنسری میں مجھے کمپونڈ منظور کروالیا اور باقاعدہ