تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 140
تاریخ احمدیت۔جلد 27 140 سال 1971ء را نا سلامت اللہ خاں صاحب امتہ الرحمان صاحبه زوجه را نا خلیل احمد صاحب فیکٹری ایریار بوہ۔امیتہ اللہ صاحبه زوجه نور الاسلام صاحب ( مکرم را ناو دود احمد صاحب مربی سلسلہ آپ کی نسل سے ہیں۔) حضرت میاں فتح محمد صاحب ولادت: ۱۸۸۲ء بیعت : ۱۹۰۳ء وفات : ۱۶ فروری ۱۹۷۱ء حضرت میاں فتح محمد صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی ہونے کا شرف حاصل تھا۔آپ اپنے آبائی گاؤں تلونڈی چھنگلاں تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور میں پیدا ہوئے آپ کے والد ماجد کا نام شہاب الدین صاحب تھا۔آپ کو اوائل عمر سے ہی عبادت الہی میں خاص شغف تھا۔نماز با قاعدگی سے پانچوں وقت مسجد میں باجماعت ادا کرتے اور اپنے والدین کے ساتھ بہت ہی حسن سلوک کے ساتھ پیش آتے اور کبھی ان کی موجودگی میں بلند آواز سے نہ بولتے۔اپنے رشتہ داروں میں شرافت، دیانت ، راستبازی اور مہمان نواز ہونے کی وجہ سے مقبول تھے۔باوجود ان پڑھ ہونے کے نہایت ذہین اور سمجھ دار تھے۔جو ایک مرتبہ سن لیتے بڑی اچھی طرح یا درکھتے۔قرآن مجید کی اکثر سورتیں آپ کو حفظ تھیں۔۱۹۰۳ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کی سعادت حاصل کی۔رشتہ داروں نے آپ کی شدید مخالفت کی۔مگر آپ کے پائے استقلال میں ذرہ بھر بھی لغزش نہ آئی۔جمعہ کی نماز آپ قادیان جا کر ادا کیا کرتے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ملاقات کا شرف حاصل کرتے۔خلافت اولیٰ اور خلافت ثانیہ میں بھی اکثر قادیان میں جا کر نماز جمعہ ادا کیا کرتے تھے۔فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب سیر کے لئے باہر جاتے تو حضور تو اپنی معمول کی رفتار سے چلتے لیکن ہم دوڑ دوڑ کر آپ کے ساتھ ملتے تھے۔ایک دفعہ حضور نے تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کے میدان میں بیٹھنا چاہا تو میں نے ایک کھدر کا کپڑا جو کہ میرے ساتھی کے پاس تھا زمین پر بچھا دیا۔حضور علیہ السلام اس پر بیٹھ گئے۔حضور علیہ السلام نے ہمیں مخاطب کر کے فرمایا کہ اس وقت تو یہ جگہ ویران نظر آتی ہے مگر ایک زمانہ آئے گا کہ یہاں پر بہت لوگ اکٹھے ہوا کریں گے اور بڑی رونق ہو گی۔بڑی بڑی شاندار عمارتیں بنیں گی۔چنانچہ ہم نے وہ نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اس جگہ پر جماعت احمدیہ کا جلسہ سالا نہ ہوتا اور تعلیم الاسلام ہائی سکول اور بورڈنگ ہاؤس وغیرہ وہاں پر بنے اور اس طرح جنگل میں منگل کا نظارہ بن گیا۔