تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 139 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 139

تاریخ احمدیت۔جلد 27 139 سال 1971ء اولاد: آپ نے تین شادیاں کی تھیں۔پہلی بیوی سیدہ خاتون بانو صاحبہ سے آپ کی ایک ہی بیٹی سیدہ طاہرہ بانو صاحبہ تھیں۔آپ کی دوسری شادی مبارکہ بیگم صاحبہ بنت حضرت سید مبارک علی صاحب باہری سے ہوئی۔ان سے کوئی اولاد نہیں تھی۔تیسری شادی سے ایک بیٹے سید خالد محمود صاحب گورو نانک بازار لاہور کا ذکر وصیت فائل میں ملتا ہے۔آپ خدا تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔آپ کی وفات دار الضیافت ربوہ میں ہوئی۔حضرت مولوی برکت علی صاحب ساکن چھنیاں تحصیل دسو بہ ضلع ہوشیار پور ولادت: ۱۸۸۹ء بیعت : ۱۹۰۷ء وفات : ۲۸ جنوری ۱۹۷۱ء مولوی فاضل تک دینی تعلیم مرکز احمدیت قادیان میں حاصل کی۔ازاں بعد پہلے اکھنور ( کشمیر ) پھر ۱۹۴۰ء تک مرالہ ہیڈ ورکس ضلع گجرات میں ملازم رہے۔اس کے بعد محلہ دارالفضل قادیان میں مع اہل و عیال رہائش پذیر ہو گئے۔جہاں ہوزری اور لنگر خانہ میں سٹور کیپر کی حیثیت سے خدمت سلسلہ کا موقع میسر آیا۔قیام پاکستان کے بعد سیالکوٹ میں مقیم ہوئے۔دعا گو اور تہجد گزار بزرگ تھے۔خندہ پیشانی اور ملنساری آپ کے نمایاں وصف تھے۔تبلیغ کا بے حد شوق تھا۔تحریک جدید کے دفتر اول کے مجاہدوں میں سے تھے۔5 اولاد رحمت اللہ صاحب واٹر ورکس سیالکوٹ۔کرامت اللہ صاحب۔سمیع اللہ صاحب جرمنی۔حفیظہ بیگم صاحبہ زوجہ آفتاب احمد صاحب مغلپورہ لاہور حضرت جمعدار نعمت اللہ صاحب آف بگول ولادت : ۱۸۹۴ء بیعت : ۱۹۰۲ء وفات : ۱۰ فروری ۱۹۷۱ء قادیان کے سکول میں عرصہ تک ڈرل ماسٹر رہے۔عرب میں بسلسلہ ملازمت رہنے کے باعث عربی زبان پر بھی عبور حاصل تھا۔تقسیم ملک کے بعد داتی تحصیل مانسہرہ میں آگئے اور مانسہرہ میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔بہت ہی مخلص اور بڑے جو شیلے، نڈر اور بہادر داعی الی اللہ تھے۔تحریک جدید کی پانچ ہزاری فوج میں شامل ہونے کی سعادت حاصل تھی۔اولاد را نا کرامت اللہ خاں صاحب۔( آپ ایک عرصہ تک ہزارہ ڈویثرن کے امیر رہے)