تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 124 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 124

تاریخ احمدیت۔جلد 27 124 سال 1971ء مشن کیلئے آمد کا ذریعہ پیدا ہو گیا۔مزید برآں مشن کی کتب کی آمد ٹیکس سے مستثنی قرار دے دی گئی۔134 فرداً فردا تبلیغی رابطہ کے علاوہ فری مذہبی کلاسز جاری کی گئیں اور کارسپانڈنس کورسز کے ذریعہ بھی لوگوں کے ساتھ رابطہ قائم کیا گیا۔دور دراز علاقوں سے بذریعہ خطوط سوالات کرنے والوں کے جوابات دیئے جاتے۔اس طرح خدا تعالیٰ کے فضل سے وسیع پیمانے پر احمدیت متعارف ہوئی۔35 زیمبیا کے جشن آزادی میں احمدیہ مشن کا حصہ ۲۴ اکتوبر ۱۹۷۴ ء کو زیمبیا کا جشن آزادی بڑی شان و شوکت سے منایا گیا زیمبیا کے صدر کا ونڈا نے اپنے ملک کو جو نیشنل فلاسفی دی اسے Humanism یعنی انسانیت کا نام دیا گیا چنانچہ اس فلسفہ پر مبنی پوسٹر اور اشتہارات نمایاں طور پر لگائے گئے۔جماعت احمدیہ نے یہ جشن شایان شان طریق سے منانے کا فیصلہ کیا چنانچہ جماعت نے ۱/۲۴ اکتوبر کو ایک سمپوزیم کا اہتمام کیا اور مختلف مذاہب کے علاوہ مختلف طبقات فکر کے لوگوں کو بھی دعوت دی گئی۔سمپوزیم کے انعقاد کی وسیع پیمانے پر تشہیر کی گئی اور صدر مملکت سے شمولیت کی درخواست کی گئی گو صد ر صاحب اپنی مصروفیات کے باعث تشریف نہ لائے تاہم انہوں نے اس سمپوزیم کے انعقاد پر مسرت کا اظہار کیا اور نیک تمناؤں اور دلی دعاؤں سے نوازا۔چنانچه ۲۴ اکتوبر ۱۹۷۴ء کو Evelyn Hone College Lusaka کے وسیع ہال میں سمپوزیم منعقد ہوا جس میں صدر مملکت کے فلسفہ انسانیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی۔ہندو مسلم عیسائی غرضیکہ ہر مکتب فکر کے لوگ کثرت کیساتھ شریک ہوئے آخر میں تمام حاضرین کی مشروبات کے ساتھ تواضح کی گئی۔سمپوزیم کے انعقاد کو ٹیلی ویژن ، ریڈیو اور پریس نے بڑی کوریج دی اور نمایاں طور پر خبروں میں ذکر کیا۔136 مبلغین اب تک زیمبیا میں مندرجہ ذیل مبلغین کو خدمت دین متین کی سعادت نصیب ہوئی۔مکرم شیخ نصیر الدین احمد صاحب۔۱۹۷۱ تا ۱۹۷۵ مکرم میر غلام احمد نسیم صاحب ۱۹۷۵ تا ۱۹۷۹