تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 100
تاریخ احمدیت۔جلد 27 100 سال 1971ء کے آدمی ( باوجود اس کے کہ کچھ تو شہید ہو گئے تھے اور کچھ ویسے بھی تعداد میں کم تھے مگر چونکہ وہ ایمان پر قائم تھے اس لئے ) ساری رات دشمن کو مارتے مارتے ان کا پیچھا کیا اور قریباً پچاس میل کے فاصلہ پر ایک دریا تھا ان کا خیال تھا کہ ہم وہاں تک ان کا پیچھا کریں گے چنانچہ دشمن کا ساٹھ ستر ہزار فوج میں سے کل پانچ سو عیسائی دریا پار کر سکے۔شاید کچھ دائیں بائیں سے بھی نکلے ہوں گے لیکن ان کی اکثریت ماری گئی۔چنانچہ وہ دشمن جو عصر کے وقت تک اپنے خیال میں غالب تھا وہ مغلوب ہی نہیں ہوا بلکہ ہلاک ہو گیا۔اس لئے کہ صبح سے لے کر عصر تک جو ظلم انہوں نے مسلمانوں پر کیا تھا وہ اپنی انتہا کو پہنچ گیا تھا۔جو جنگ اس وقت ہندوستان کے خلاف لڑی گئی ہے میرا اندازہ ہے کہ صبح سات بجے ہمارے فوجیوں سے ظالم حکومت نے جنگ بند کرا دی۔ہمارا سپاہی بڑی بے جگری سے لڑا ہے اس نے اپنے خون سے یہ ثابت کیا ہے کہ اس پر بزدلی یا نا اہلی کا دھبہ نہیں آتا اس لئے میں ان کی بات نہیں کر رہا۔لیکن جن کا بھی قصور تھا اور جہاں بھی وہ فتنہ تھا اس کی وجہ سے ہتھیار ڈالے گئے تو عصر کا وقت نہیں تھا ظہر کا وقت بھی نہیں تھا۔بارہ بھی نہیں بجے تھے۔دس بجے کا بھی وقت نہیں تھا صبح سات بجے ہتھیار ڈال دیئے اور پھر یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد کیوں نہیں آئی ؟ قرآن کریم کی واضح تعلیم کے خلاف ہے۔97 امتیازی خدمات سرانجام دینے والے پاکستانی افواج کے بعض احمدی افسران چوہدری محمد اکرم صاحب شہادت: ۲۶ نومبر ۱۹۷۱ء آپ مکرم چوہدری عبد العزیز صاحب صدر جماعت احمد یہ چک E۔B-245 ضلع ساہیوال کے صاحبزادے تھے۔آپ نے دفاع وطن میں دلیرانہ خدمات سرانجام دیتے ہوئے اپنی جان قربان کر دی۔شہادت کے وقت آپ کی عمر ۲۶ سال تھی۔اسی سال ۲۱ فروری ۱۹۷۱ء کو آپ کی شادی ہوئی تھی۔آپ بہت دیندار اور خوش اخلاق نوجوان تھے۔98