تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 1
تاریخ احمدیت۔جلد 27 1 صلح تافتح ۱۳۵۰ هش/ جنوری تا دسمبر ۱۹۷۱ء سال 1971ء ۱۹۷۱ء کا پہلا خطبہ جمعہ ۱۹۷۱ء کے سال نو میں یکم جنوری کو جمعہ کا دن تھا۔سید نا حضرت خلیفہ لمسیح الثالث نے مسجد مبارک میں خطبہ جمعہ کے دوران مبارک باد دی کہ سال نو ایک عید سے شروع ہو رہا ہے ازاں بعد پوری جماعت کو نہایت پر حکمت انداز میں تلقین فرمائی کہ حسد و عناد کا بڑا ہتھیار دروغ گوئی ہے۔اس کا دفاع یہ ہے کہ ہم عاجزانہ راہوں کو اختیار کرتے ہوئے اپنے رب کی طرف رجوع کریں، کسی کو دکھ نہ پہنچائیں اور ہر ایک کے لئے ہمدردی اور دعا کو اپنا شعار بنا ئیں چنانچہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ:۔”جو سال گذر چکا ہے وہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے لئے اندرونِ پاکستان بھی اور بیرون پاکستان بھی بڑی ہی برکتوں کا موجب تھا۔اللہ تعالیٰ کی رحمت اور پیار کے بڑے حسین نظارے ہم نے گذشتہ سال دیکھے ہمارے دل اس کی حمد سے معمور ہیں۔سال نو ایک عید سے شروع ہورہا ہے۔نبی اکرم صلی سلیم نے فرمایا کہ جمعہ بھی تمہارے لئے ایک عید ہے۔جمعہ کا ایک پہلو اجتماعی زندگی کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتا ہے اور اجتماعی برکات اور رحمتوں کے حصول کا موجب بن جاتا ہے۔حسن واحسان کے جو جلوے ہم اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات سے دیکھتے ہیں اس کے نتیجہ میں حسد و عناد کا پیدا ہونا ضروری ہے اور حسد و عناد کا بڑا ہتھیار دروغ گوئی اور کذب بیانی ہے اس کا دفاع جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں سکھایا ہے وہ عاجزانہ راہوں کو اختیار کرنا اور ماسوا اللہ کسی چیز پر بھروسہ نہ رکھنا اور سب کچھ اور سب خیر و برکت اپنے رب کریم سے حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔اسلام کے عظیم دور کے ساتھ ہی حسد کا دور، عنادکا دور مخالفت کا دور اور ظلم کا دور شروع ہوا تھا۔قرآن کریم نے ابتدا ہی سے ہمیں تعلیم دی تھی کہ حاسد کے حسد کے شر سے بچنے کے لئے تم اپنے رب کی طرف رجوع کرنا اور اپنی حفاظت اُسی سے چاہنا۔انعام جب بے شمار ہوں۔انعام جب معمول سے زیادہ ہوں۔پیار جب ٹھاٹھیں