تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 99
تاریخ احمدیت۔جلد 27 99 سال 1971ء یہ واقعہ اس طرح ہوا کہ جب سپین کے حالات خراب ہو گئے تو مسلمانوں نے یوسف بن تاشفین سے درخواست کی کہ ہماری مدد کریں۔چنانچہ وہ قریباً بارہ ہزار گھوڑ سوار فوج لے کر وہاں پہنچ گئے۔عیسائی بادشاہ ساٹھ ستر ہزار کی فوج لے کر حملہ آور ہوا۔بڑی زبردست جنگ ہوئی جس میں بظاہر دشمن کا پلہ بھاری تھا۔تاریخ بتاتی ہے کہ اس موقع پر یوسف بن تاشفین نے یہ سمجھا کہ آج مجھے اپنی عمر میں شاید پہلی شکست نہ ہو جائے کیونکہ دشمن کا دباؤ بڑا شدید تھا۔عیسائی مسلمانوں کو مار رہے تھے انہیں قتل کر رہے تھے اور پیچھے ہٹا رہے تھے مگر اس سارے دباؤ اوران تیزیوں کے باوجود جو دشمن مسلمانوں کے خلاف دکھا رہا تھا اس پر انہوں نے پیٹھ نہیں دکھائی۔عیسائی سمجھتے تھے کہ آج وہ غالب آگئے اور سپین سے مسلمان کو گو یا مٹا دیا۔یوسف بن تاشفین کا یہ واقعہ مسلمان کی سپین میں ہلاکت سے کئی صدی پہلے کا ہے گو اس وقت بھی یہی حالات پیدا ہو گئے تھے جو بعد کی صدی میں زیادہ بگڑ گئے اور مسلمانوں کو ان کی غفلتوں اور کوتاہیوں اور گناہوں کے نتیجہ میں ایک عذاب کا اور اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا۔بہر حال یوسف بن تاشفین سمجھتے تھے کہ عمر میں پہلی شکست ہورہی ہے اور ادھر عیسائی بادشاہ یہ سمجھتا تھا کہ آج (بزعم خویش ) عیسائیت اور اسلام کا فیصلہ ہو گیا ہے ہم نے مسلمانوں کو مٹا دیا ہے۔یہ باہر سے مدد دینے آئے تھے اپنے مسلمان بھائیوں کو ہم نے ان کو بھی شکست دے دی ہے۔چنانچہ عصر تک یہی حال رہا۔پھر اللہ تعالیٰ کے فرشتے ایک نئی شان میں آئے کیونکہ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ ( الرحمن :۳۰)۔اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ہر جلوہ نئی شان رکھتا ہے چنانچہ عصر کے وقت عیسائی فوج بھاگ نکلی۔حالانکہ اس سے پہلے وہ سارا دن مسلمانوں کو مارتے اور دباتے رہے تھے لیکن مسلمانوں کی تکلیف جب اپنی انتہا کو پہنچ گئی تو اللہ تعالیٰ جو سچے وعدوں والا اور کامل قدرتوں والا ہے وہ مسلمانوں کی مدد کو آیا۔اس نے ان کا امتحان لے لیا تھا اس لئے فرمایا تم کامیاب ہو گئے۔اب لو میرا انعام۔چنانچہ رومی (عیسائی ) بھاگے اور یوسف بن تاشفین اور اس