تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 97 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 97

تاریخ احمدیت۔جلد 27 97 سال 1971ء نظارہ ہم بعد کی لڑائیوں میں بھی دیکھتے ہیں۔۔۔کیسے ہی حالات احزاب کے موقع پر پیدا ہو گئے قریباً سارا عرب اکٹھا ہو کر ان غریبوں اور مفلسوں اور نہتوں کو قتل کرنے کے لئے وہاں جمع ہو گیا اور انہوں نے مدینہ کا محاصرہ کر لیا۔مسلمانوں کی یہ حالت تھی کہ بھوک کے مارے وہ پیٹ پر پتھر باندھ کر چلتے تھے۔دوسری طرف مسلمان عورتوں کی یہ حالت تھی کہ جس جگہ وہ اکٹھی کی گئیں وہاں ان کی عزت اور عصمت کی حفاظت کے لئے بھی مسلمان سپاہی میسر نہیں تھا کیونکہ دوسری جگہ اس کی زیادہ ضرورت تھی۔مسلمان عورت سے فرمایا کہ اگر آج تیری عزت کی آزمائش ہے اور خدا یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ ایک مسلمان عورت میرے راستے میں اپنی عزتوں کو قربان کرنے کے لئے تیار ہے یا نہیں تو وہ اس امتحان میں پورا اترنے کے لئے تیار ہو جائیں۔چنانچہ وہ تیار ہوگئیں۔پھر جس وقت یہ سارا جم غفیر اور یہ سارا مجمع جو اسلام کو مٹانے کے لئے جمع ہوا تھا اور ان کفار کی امید اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی کہ بس اب وہ غالب آئے اور مسلمان مغلوب ہوئے ادھر مسلمانوں کے حالات کرب عظیم کو پہنچ گئے اور وہ سمجھنے لگے کہ اگر اس وقت خدا تعالیٰ کی مدد نہ آئی تو وہ مارے جائیں گے، اس وقت خدا کی مدد آئی اور فرشتے اس مدد کو آسمان سے لے کر آئے۔۔یرموک کی جنگ کو لیں یہ پانچ دن تک جنگ ہوئی ہے اور خدا کی شان یہ ہے کہ حضرت خالد بن ولید کو طفیل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بتادیا گیا تھا کہ چار دن تک آزمائشوں کا دور ہوگا یعنی ان کے ذہن میں پہلے سے یہ تصور موجود تھا کہ چار دن دشمن کے اور پانچواں دن ہمارا ہوگا۔یعنی تین پہر دشمنوں کے ہوں گے اور چوتھا پہر ہمارا ہو گا چنانچہ دشمن اپنے وزن ، اپنی تعداد اور اپنے ہتھیاروں کے زور کے ساتھ مسلمانوں کو دھکیلتے ہوئے ان کے خیموں تک لے جاتا تھا مسلمانوں کی یہ حالت دیکھ کر ایثار پیشہ فدائی مسلمان عورتیں خیموں کے ڈنڈے لے کر مسلمانوں کے سر پر مارتی تھیں کہ واپس جاؤ یہاں کیا لینے آئے ہو۔چنانچہ اگلے دن اور پھر اس سے اگلے دو دن بھی یہی حال ہوا اس معرکہ میں کئی مسلمان شہید ہو گئے جن میں عکرمہ اور اس کے ساتھی بھی شامل تھے مگر کسی مسلمان نے پیٹھ نہیں