تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 67 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 67

تاریخ احمدیت۔جلد 26 67 سال 1970ء سیرالیون کے ابتدائی مبلغ تھے۔آپ نے خدمت دین کی راہ میں یہیں جان دی اور افریقہ کی سرزمین کو اپنے وجود سے ہمیشہ کے لئے برکت بخشی۔ان کا مزار بو سے باہر ایک پر فضا مقام پر ہے۔۲ مئی کو حضور بو سے واپس فری ٹاؤن تشریف لے آئے اسی روز سیرالیون کے قائم مقام گورنر جنرل صاحب نے حضور کے اعزاز میں وسیع پیمانے پر سر کاری ضیافت کا اہتمام کیا۔جس میں خود گورنر جنرل صاحب کے علاوہ حکومت کے وزراء، اعلیٰ حکام اور متعدد ممالک کے سفارتی نمائندے نامور مسلمان لیڈر اور کلیسیائے سیرالیون کے نمائندے شامل ہوئے۔۱۳ مئی کو حضور نے پریس کانفرنس سے خطاب فرمایا۔اس کا نفرنس میں خاندانی منصوبہ بندی سے لے کر اسلام اور احمدیت کے درخشندہ مستقبل تک بہت سے مسائل زیر بحث آئے۔حضور نے ان سب مسائل کے بارہ میں اخبار نویسوں کے متعد د سوالوں کے جواب دے کر اسلام کی بے مثال و لا زوال تعلیم کی برتری اور فوقیت کو ان پر واضح فرمایا۔پر یس کا نفرنس کے بعد حضور نے احباب جماعت سے ملاقات فرمائی۔شام کو آنریبل ایم ایس مصطفی ممبر پارلیمنٹ اور سابق نائب وزیر اعظم اور ڈاکٹرسنگھ پروفیسر سیرالیون یو نیورسٹی ملاقات کے لئے حاضر ہوئے۔80 مکرم ظفر اللہ الیاس صاحب لیگوس ( نائیجیریا) سے بذریعہ ہوائی جہاز اس سب کمیٹی کی رپورٹ لے کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے جو حضور نے منصوبہ " Leap Forward ( یعنی آگے بڑھو) کے سلسلہ میں مقرر فرمائی تھی اور ارشاد فرمایا کہ مغربی افریقہ سے روانہ ہونے سے پہلے پہلے رپورٹ ملنی چاہیئے۔ظفر اللہ الیاس صاحب یہ خوشخبری بھی لائے کہ گورنمنٹ آف نائیجیریا نے چار احمدیہ مسلم سیکنڈری سکولز کی منظوری دے دی ہے۔۱۴مئی کو حضور کی سیرالیون سے ہالینڈ روانگی کا پروگرام تھا اس لئے اس روز احباب جماعت اداس نظر آتے تھے۔فضائی مستقر کی طرف روانگی سے قبل حضور نے دعا فرمائی۔ہوائی اڈے پر احباب جماعت اپنے پیارے آقا کو الوداع کہنے کے لئے دیوانہ وار جمع تھے۔حضور انور کو ایک معمر خاتون نے اپنے ہاتھ سے گھاس کی ایک ٹوکری بنا کر اپنی بچی کے ہاتھ بطور تحفے کے بھجوائی تھی۔یہ ٹوکری انہوں نے اس امید پر بنائی تھی کہ خود حضور انور کی خدمت میں پیش کریں گی۔لیکن ضعیفی اور بیماری کی وجہ سے خود حاضر نہ ہو سکیں۔اور یہ تحفہ جو اخلاص اور محبت کی منہ بولتی تصویر